تین مہینے بعد شادی تھی لیکن اس سے پہلے ملک پہ جان وار دی۔۔۔ شہید کیپٹن روح اللہ کی دکھی داستان

image

پاکستان کی دھرتی ایسے بیٹوں سے بھری پڑی ہے جو وطن کے دفاع اور سلامتی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ قیامِ پاکستان سے اب تک کئی جوانوں نے شہریوں کے تحفظ کے لئے اپنی قیمتی جانیں قربان کی ہیں انھیں میں سے ایک کیپٹن روح اللہ بھی ہیں۔

والدین ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے

کیپٹن روح اللہ پشاور کے علاقے مراد آباد میں 5 مئی 1989کو پیدا ہوئے۔ سنہری آنکھوں اور شریر سی مسکراہٹ والے کیپٹن روح اللہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ان کے دو بھائی اور ایک بہن ہیں۔ شہید کیپٹن روح اللہ کے والدین چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بنیں کیونکہ وہ پڑھائی میں بہت اچھے تھے اور ہمیشہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوتے تھے لیکن پاک دھرتی کے اس بیٹے میں تو وطن پر جانثار کرنے کا جذبہ موجود تھا جس کی خاطر انھوں نے فوج میں شمولیت کو ترجیح دی۔

شہادت کا واقعہ

کیپٹن روح اللہ نے وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا اور باچا خان یونیورسٹی حملے کے دوران پریشنل ٹیم کا حصہ بھی رہے۔ 24 اکتوبر کو کوئٹہ میں پولیس ٹرنننگ کالج میں اچانک کچھ دہشت گردوں نے حملہ کردیا جہاں کیپٹن روح اللہ نے بھی کارروائی کی اسی آپریشن کے دوران ایک بزدل خودکش حملہ آور چارپائی کے نیچے چھپ گیا لیکن جیسے ہی کیپٹن روح اللہ نے خطرے کو محسوس کیا وہ فوراً ہی حملہ آور کو روکنے کے لئے اس کی جانب بڑھے اتنی دیر میں دھماکہ ہوگیا اور کیپٹن روح اللہ شہید ہوگئے۔ حملہ آور کی جانب بڑھنے سے پہلے کیپٹن روح اللہ پولیس کے جوانوں کو کمرے سے حفاظت سے باہر نکال چکے تھے جس کی وجہ سے کئی جانیں بچ گئیں۔ اس حملے میں تقریباً 61افراد نے جان سے ہاتھ دھوئے جن میں پولیس اور فوجی جوانوں کے ساتھ دہشت گرد بھی شامل تھے۔ کیپٹن روح اللہ کے اس کارنامے کی بدولت انھیں ستارہ جرات سے نوازا گیا ہے۔

بھائی نے ہمیشہ ملک کے لئے سوچا

شہید کیپٹن روح اللہ کے والد کا کہنا ہے کہ وہ ان کا بہت پیارا بیٹا تھا جس کی صرف تین ماہ بعد شادی تھی۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دونوں چھوٹے بیٹوں کو بھی فوج میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ کیپٹن روح اللہ کے بھائی کہتے ہیں کہ میرے بھائی نے کبھی اپنی ذات کے لئے نہیں سوچا بلکہ ہمیشہ ملک کی بھلائی اور سلامتی کے لئے ہی سوچا۔ بلاشبہ ایسے جوانوں کی ہمت اور جرات کی بدولت ہی ہم آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US