گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہورہی ہے جس میں ایک امریکی ساختہ لڑاکا طیارے F-16 کی کریش لینڈنگ کی تصویر شئیر کی جارہی ہے۔ جبکہ افغانستان کی مزاحمتی تحریک کے سربراہ احمد مسعود کے مبینہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس تصویر کو پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے F-16 کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔ اس اکاؤنٹ سے تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے اس میں لکھا گیا ہے کہ پاکستانی لڑاکا طیارے کو افغانستان میں مار گرا دیا گیا ہے۔
جبکہ ایک ویڈیو، جو کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے دکھائی جارہی ہے۔ جس میں پاک فضائیہ کے طیارے افغانستان کے علاقے پنجشیر میں شمالی اتحادی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ تاہم تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان دونوں دعوؤں میں کوئی سچائی نہیں، بلکہ یہ سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی تمام ویڈیوز اور تصاویر جنہیں پاکستان ائیر فورس کے ساتھ منسوب کیا جارہا ہے وہ تمام کی تمام جھوٹ پر مبنی ہے۔
ہم آپ کو شئیر کی جانے والی ویڈیو اور تصویر کی اصل حقیقت کے بارے بتائیں گے۔ شئیر کی جانے والی F-16 کی تصویر کی اصل حقیقت یہ ہے کہ 2018 میں امریکی ویب سائٹ Military.com نے اسے شائع کیا تھا۔ جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ امریکہ کی ریاست ایریزونا کے بارڈر کہ قریب ائیر فورس کی مشق کے دوران امریکی F-16 نے کریش لینڈنگ کی تھی۔
جس سے یہ دعویٰ کہ پاکستانی لڑاکا طیارے افغانستان میں پنجشیر کی وادی میں لڑرہے ہیں اور مزاحمتی فورسز نے پاکستانی لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے وہ غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔
جبکہ بھارتی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستانی ائیر فورسز پنجشیر میں طالبان کی مزاحمتی گروہ کے خلاف طالبان کی مدد کررہی ہے۔ اس ویڈیو کی حقیقت کو جان کر آپ بھی حیران ہو جائیں گے۔
دراصل یہ بھارتی میڈیا کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو بھی جھوٹی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو ایک ویڈیو گیم ارما -3 (Arma-3) سے لی گئی ہے۔ جبکہ اس جھوٹی ویڈیو کو پاکستان آئر فورسز کی افغان طالبان کی مدد کے ساتھ منسوب کیا جارہا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی ویڈیو اور تصویر دونوں جھوٹی ہیں اور دشمنوں کی جانب ایک سازش کے تحت پاکستان کو بدنامہ کرنے ناکام کوشش کی جارہی ہے۔