میں نے 3 بچوں کی بیوہ ماں سے شادی کی کیونکہ۔۔ جانیے اس نوجوان کی کہانی، جو بیوہ اور یتیم بچوں کا سہارا بنا

image

ویسے تو نکاح ایک ایسا راستہ ہے جو کئی برائیوں سے بچا کر رکھتا ہے، لیکن کسی بیوہ یا طلاق یافتہ سے شادی کرنا بھی افضل عمل ہے۔

ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی شخص کی کہانی کے بارے میں بتائیں گے جس نے 3 بچوں کی والدہ سے نکاح کر لیا ہے۔

لاہور کے سید کاشف نقوی نے ایک ایسا ہی عمل کیا ہے جس نے پاکستانی معاشرے میں ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کی سب تعریف کر رہے ہیں۔ سید کاشف نقوی نے 3 بچوں کی والدہ سے نکاح کر کے سب کو ایک بہترین سبق بتایا ہے۔ اور دین اسلام اور آقائے دو جہاں کی تعلیمات کو تازہ کر دیا ہے۔

سید کاشف نقوی ایک ایسا شخص ہے جس کے بولنے میں بھی مٹھاس بھری ہے، وہ جس طرح پیار سے بات کرتا ہے اس کے اس عمل نے اس کی شخصیت کو مزید نکھار دیا ہے۔

27 سالہ کاشف ویسے تو واپڈا میں میٹر ریڈر ہیں مگر میرے والدین کا فیصلہ تھا جو میں نے دل سے قبول کیا تھا۔ میری والدہ نے مجھے بتایا تھا کہ یہ ہم اس خاتون سے تمہاری شادی کرانا چاہتے ہیں، میں والدین کی بات کو مناتے ہوئے ہاں کر دی۔

جبکہ اپنی اہلیہ سے متعلق کاشف کا کہنا تھا کہ میرے مامو کا انتقال ہو گیا تھا، جس پر ان کی اہلیہ بیوہ ہو گئی تھیں اور تین بچے بھی تھے۔ ایسے میں خاندان والوں نے مجھ سے میری رضامندی پوچھی اور میں نے ہاں کر دیا۔ جبکہ سماج کے سوالوں سے متعلق کاشف کہتے ہیں کہ کیا بیوہ نے خود اپنے آپ کو اس طرح کیا ہے کیا؟ میں نے تو اس عورت کے ساتھ لگنے والے دھبے کو ختم کرنے کے لیے اس سے شادی کی ہے۔

بیوہ عورت کے بھی احساسات ہیں، ہمیں اس کا بھی احترام کرنا ہے، اور نکاح کو عام کرنا ہے۔ لوگوں نے تو باتیں کی تھیں، مگر میں نے لوگوں کے لیے شادی نہیں کی، بلکہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے شادی کی تھی۔ میری اس شادی سے میرے دادا بہت خوش تھے، وہ کہتے تھے کہ تم نے ہمیں لوگوں میں جینے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ خاندان والے بھی اس عمل پر تعریف کر رہے ہیں۔

نوجوانوں کو ایک ہی پیغام دوں گا کہ عورت کے جذبات کو قدر دیں، عورت پر لگے دھبے کو ہٹائیں۔ جبکہ لوگوں کی باتوں کو ایک کان سے سنے دوسرے سے نکال دیں۔ شادی نے خدا سے مل وادیا ہے، مجھے نماز پڑھنے کی طرف راغب کر دیا ہے۔ جبکہ اہلیہ سے متعلق مزید کہا کہ میری اہلیہ میرے لیے خوش قسمت ثابت ہوئی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US