افغان طالبان کی افغانستان میں حکومت قائم ہونے کے بعد اس بات کی امید کی جارہی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود تناؤ میں کمی آئے گی۔ تاہم خبر کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت پاکستانی روپے میں کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر طلحہ محمود نے کی، جس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان پاکستانی روپے میں تجارت کرنے فیصلہ لیا گیا ہے۔
اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ افغانستان میں ڈالر کی کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس لیے فیصلہ لیا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت پاکستانی روپے میں کی جائی گی۔ جبکہ شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے افغانستان کے ڈالرز کو روک رکھا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی صورتحال کا
روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جارہا ہے۔ تاہم افغانستان کا بڑا مسئلہ فوڈ پرائس کے کنٹرول کا ہے۔ جبکہ افغانستان کے مختلف معاملات کو چلانے کیلئے پاکستان سے کچھ لوگوں کو بھی بھیجا جاسکتا ہے۔
شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ رواں مالی سال جی ڈی پی کی گروتھ کو 4.8 فیصد پر لے جائیں گے۔