مسلم لیگ کے ن رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے، حالت خطرے سے باہر آنے کے بعد اب انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ میں تو جمعے کی نماز کے بعد اپنے حلقے میں گھوم رہا تھا۔
تو اچانک سے 2 شخص موٹر سائیکل پر ائے اور مجھ پر فائرنگ شروع کر دی اور جب میں نے انہیں اپنے آس پاس دیکھا تو سوچا کہ کہ پولیس والے ہیں لیکن یہ حملہ آور تھے۔
یہی نہیں انہوں نے کہا کہ میرا دوست آیا اور کہا میرا کام ہے آپ میرے ساتھ چلو تو میں تو اس کے ساتھ گیا تھا لیکن مجھے تو اب تک سمجھ نہیں آرہا ہے کہ میرے ساتھ یہ ہو اکیا ہے اور کیوں ہوا ہے؟
مزید یہ کہ یہاں یہ بتا دینا بھی بہت ضروری ہے کہ بلال یاسین پر لاہور میں موہنی روڈ پر فائرنگ کی گئی جس پر انہیں میو اسپتال پہنچایا گیا تو وہاں کے ایم ۔ ایس ڈاکٹر افتخار کا کہنا تھا کہ انہیں 2 گو لیاں لگیں۔
جن میں سے 1 پیٹ کے پاس سے ہو کر گزری اور دوسری کولہے کے نیچے لگی جس کا زخم گہرا ہے تاہم ابھی کچھ نہیں جا سکتا اور حتمی رائے تو آپریشن کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔
مگر اب گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ان کااسپتال میں علاج چل رہا تھا لیکن اب میو اسپتال کے ایم ۔ایس کے مطابق ان کا آپریشن کر دیا ہے اور انکی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
انکی صحت سے متعلق یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ گولی ہڈی پر لگنے سے ہڈی متاثر ہے اور اس کا زخم ابھی گہرا ہے اسی لیے انہیں ابھی 2 دن آئی ۔ سی۔ یو میں رکھا جا ئے گا۔
اور بعد میں وارڈ میں منتقلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس جان لیوا واقعے کے بعد مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور صدر شہباز شریف نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔