تقریباً 112 برس قبل ایک کار ڈرائیور کے غلط موڑ نے ایک ایسے قتل کی راہ ہموار کی جس نے بین الاقوامی بحران کو جنم دیا۔ یہ بحران جلد ہی ایک عالمی جنگ میں تبدیل ہو گیا جس میں تقریباً دو کروڑ افراد ہلاک ہوئے، سلطنتیں ختم ہوئیں اور دنیا کے مختلف خطوں، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ، میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔
1918 میں مصر میں آسٹریلوی فوجیوں کی تصویرتقریباً 112 برس قبل ایک کار ڈرائیور کے غلط موڑ نے ایک ایسے قتل کی راہ ہموار کی جس نے بین الاقوامی بحران کو جنم دیا۔
یہ بحران جلد ہی ایک عالمی جنگ میں تبدیل ہو گیا جس میں تقریباً دو کروڑ افراد ہلاک ہوئے، سلطنتیں ختم ہوئیں اور دنیا کے مختلف خطوں، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ، میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔
پہلی عالمی جنگ چار برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ اس دوران متعدد واقعات، معرکے اور سفارتی معاہدے سامنے آئے۔
ان میں سے بعض پر نظر ڈالنے سے آج کی دنیا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
آرچ ڈیوک کا قتل
جون 1914 میں ہیپسبرگ سلطنت (جس میں بنیادی طور پر آسٹریا اور ہنگری شامل تھے) کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ شہزادی صوفیا بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو کے دورے پر تھے۔
ان کے استقبال کے دوران بوسنیائی سرب قوم پرستوں کے ایک گروہ نے ان کے قتل کی کوشش کی۔ یہ لوگ بوسنیا کو سربیا میں شامل کرنے کے حامی تھے۔ ولی عہد حملے میں بچ گئے لیکن ان کے چند ساتھی زخمی ہوئے۔
بعد ازاں آرچ ڈیوک نے سرائیوو کی مجلس میں خطاب کیا اور پھر اپنے زخمی ساتھیوں کی عیادت کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے سرکاری پروگرام میں تبدیلی کی گئی، تاہم موٹر قافلے کے ڈرائیوروں کو اس تبدیلی کی اطلاع نہ دی گئی۔
پہلی گاڑی ایک ایسی سڑک پر مڑ گئی جہاں قافلے کو نہیں جانا تھا۔ ولی عہد کی گاڑی بھی اسی کے پیچھے چلی گئی۔ جب بوسنیا کے گورنر آسکر پوٹیورک کو غلطی کا احساس ہوا تو انھوں نے ڈرائیور سے راستہ درست کرنے کو کہا۔
گاڑی موڑنے کے لیے روکی گئی تو اتفاق سے وہ بوسنیائی سرب شدت پسند گوریلو پرنسپ کے قریب رک گئی۔ وہ اسی گروہ کے رکن تھے جس نے صبح آرچ ڈیوک کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ پرنسپ نے فائرنگ کر کے آرچ ڈیوک اور ان کی اہلیہ کو قتل کر دیا۔
پہلی گاڑی ایک ایسی سڑک پر مڑ گئی جہاں قافلے کو نہیں جانا تھاآرچ ڈیوک کے قتل کے بعد ہیپسبرگ سلطنت نے 28 جولائی 1914 کو سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یورپی ممالک تیزی سے یا تو ہیپسبرگ سلطنت کے کیمپ میں شامل ہوئے یا سربیا کے حامی بن گئے۔ سربیا کے روس کے ساتھ مضبوط تعلقات تھے۔
بعض مورخین کے مطابق آرچ ڈیوک کا قتل محض وہ چنگاری تھا جس نے ایسے ممالک کے درمیان جنگ چھیڑ دی جن کے باہمی تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار تھے اور کسی بھی وقت جنگ میں جا سکتے تھے۔
یوں پہلی عالمی جنگ میں دو بڑے اتحاد وجود میں آئے۔ ایک طرف اتحادی طاقتیں تھیں جن میں بنیادی طور پر روس، برطانیہ اور فرانس شامل تھے، جبکہ دوسری جانب مرکزی طاقتیں تھیں جن میں جرمنی اور ہیپسبرگ سلطنت شامل تھے۔
بعد میں امریکہ اور اٹلی اتحادیوں میں شامل ہو گئے، جبکہ سلطنتِ عثمانیہ مرکزی طاقتوں کا حصہ بن گئی۔ یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے دور رس نتائج کا حامل ثابت ہوا۔
بھٹکتے ہوئے جہاز
جس طرح شاہی موٹر قافلے کی ایک غلط مڑنے والی گاڑی نے آرچ ڈیوک کے قتل کی راہ ہموار کی، اسی طرح دو جنگی جہازوں کا ترک پانیوں میں لنگر انداز ہونا ایسے واقعات کا سبب بنا جو بالآخر سلطنتِ عثمانیہ کے جنگ میں شامل ہونے پر منتج ہوئے۔
جنگ شروع ہونے سے چند برس قبل سلطنتِ عثمانیہ اور جرمنی کے تعلقات مضبوط ہو رہے تھے، جس پر خصوصاً برطانیہ کو تشویش تھی کیونکہ اس کے عثمانیوں کے ساتھ مفاداتی تعلقات موجود تھے۔
اگرچہ استنبول کی نئی حکومت میں بعض رہنما غیر جانب دار رہنے کے حامی تھے، تاہم دیگر بااثر شخصیات، خصوصاً وزیرِ جنگ انور پاشا، جرمنی کے قریب سمجھی جاتی تھیں۔
جب برطانوی اور فرانسیسی جنگی جہاز الجزائر میں فرانسیسی تنصیبات پر بمباری کرنے والے دو جرمن جنگی جہازوں کا بحیرۂ روم میں تعاقب کر رہے تھے، تو 10 اگست 1914 کو استنبول نے ان دونوں جہازوں کو ترک علاقائی پانیوں میں داخل ہونے کی اجازت دے دی، جس سے لندن اور پیرس ناراض ہو گئے۔
عثمانی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے یہ جہاز جرمنی سے خرید لیے ہیں تاکہ برطانیہ کی جانب سے منسوخ کیے گئے جنگی جہازوں کے معاہدے کا ازالہ کیا جا سکے۔
برطانوی مورخ یوجین روگن اپنی کتاب ’سقوط العثمانیہ‘ میں لکھتے ہیں کہ عثمانی حکام کئی ہفتوں تک جرمنی کے اس دباؤ کا مقابلہ کرتے رہے کہ استنبول جنگ میں برلن کے ساتھ شامل ہو جائے۔ بالآخر سلطنتِ عثمانیہ نے نومبر 1914 میں جنگ میں شرکت کا اعلان کر دیا۔
جرمنی نے اس فیصلے کو عثمانی فوجی طاقت سے زیادہ اس امید کے باعث اہم سمجھا کہ برطانیہ اور فرانس کی مسلم آبادیوں میں اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
جرمنی کی ’جہاد‘ پر اُکسانے کی مہم
سلطنت عثمانیہ کے برطانیہ، فرانس اور روس کے خلاف اعلان جنگ میں کچھ تضادات تھے۔ اس اعلان میں سیاست اور مذہب کو اس انداز میں ملایا گیا جو یونین اینڈ پروگریس پارٹی کے سیکولر نظریاتی رجحانات سے بہت مختلف تھا۔ اس گروہ نے 1909 میں سلطان عبدالحمید دوم کو اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہٹا دیا تھا۔
سلطان محمد پنجم، جن کے پاس کوئی حقیقی طاقت نہیں تھی، نے ان ’کافروں‘ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جو اسلام کے دشمن تھے کیونکہ شیخ الاسلام، جو سلطنت عثمانیہ کا سب سے اعلیٰ مذہبی عہدہ تھا، نے پیغمبر اسلام کی تلوار کی نقل تیار کی۔
شیخ الاسلام مصطفیٰ خیری افندی روسیوں، برطانویوں اور فرانسیسیوں کے خلاف جہاد کی دعوت دے رہے تھےجنگ شروع ہونے اور عثمانی و روسی افواج کے درمیان لڑائی کے بعد جرمنی نے ایک مہم شروع کی جس کا مقصد ’عثمانی ریاست کے دشمنوں کے خلاف جہاد‘ کو فروغ دینا تھا۔
1915 میں برلن میں مشرقی خبروں کی ایک ایجنسی قائم کی گئی جس کی نگرانی جرمن سکالر میکس فان اوپن ہائیم کر رہے تھے۔ اس ادارے کے ذریعے ایسے اخبارات شائع کیے گئے جو مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ کرتے تھے۔
اس ادارے میں سکالرز کے علاوہ عالمِ اسلام کی مختلف شخصیات شامل تھیں، جن میں لبنانی ادیب شکیب ارسلان اور مصر کی نیشنل پارٹی کے رہنما شیخ عبدالعزیز جاویش بھی شامل تھے۔
جرمن حکام نے مسلمان قیدیوں کو نماز کی اجازت دی، ان کے لیے حلال خوراک فراہم کی اور متعدد مسلم مفکرین کو خطابات کے لیے مدعو کیا تاکہ وہ قیدیوں کو جہاد کی ترغیب دیں۔
تاہم جرمنی کی سرپرستی میں چلائی جانے والی ’اسلامی جہاد‘ کی یہ مہم کامیاب نہ ہو سکی۔ پروفیسر ٹِلمان لوڈکے، جو جرمنی میں تیار کردہ جہاد کے مصنف ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اتحادی طاقتوں کے زیرِ قبضہ مسلم علاقوں کے باشندوں میں مغربی فوجی طاقت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔
اسی دوران ایک دوسرا دھارا بھی ابھر رہا تھا جسے برطانیہ کی حمایت حاصل تھی اور جو سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عسکری قوت اور تاریخی تصورات کو یکجا کر رہا تھا۔
عرب بغاوت
پہلی عالمی جنگ سے قبل ایشیا میں عثمانی اقتدار کے ماتحت عرب علاقوں کے بعض سیاست دانوں اور دانشوروں کو امید تھی کہ آئینی نظام کی بحالی اور پارلیمنٹ کے انتخاب کے بعد انھیں سلطنتِ عثمانیہ میں مؤثر سیاسی شرکت حاصل ہو گی۔
تاہم، نئے عثمانی حکمرانوں اور قوم پرست اور عرب رجحانات رکھنے والے عرب دانشوروں اور سیاستدانوں کی ٹیم کے درمیان تنازعہ جلد ہی اس میں شامل ہو گیا، جسے لبنانی مصنف اسعد خلیل داغر نے اپنی کتاب ’عرب انقلاب‘ میں وفاق کی طرف سے عائد کردہ ’ترک رجحان‘ کے طور پر منسوب کیا ہے، یعنی ترک نسل کو سلطنت عثمانیہ کی باقی نسلوں پر فوقیت دی گئی۔
جنگ کے دوران استنبول حکومت اور مختلف نسلی گروہوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جو بعض اوقات تشدد میں بدل گیا، جیسا کہ آرمینی باشندوں کے ساتھ ہوا۔
بلادِ شام میں بھی عرب قوم پرستوں اور عثمانی حکام کے تعلقات خراب ہوئے۔ 1915 اور 1916 میں متعدد دانشوروں اور کارکنوں کو برطانیہ اور فرانس سے تعاون کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ تاہم عرب قوم پرست رہنما ان الزامات کی تردید کرتے رہے۔
عربوں اور اتحادی طاقتوں کے درمیان حقیقی تعاون دمشق یا بیروت سے نہیں بلکہ مکہ کے حاکم شریف حسین اور برطانوی حکام کے درمیان خطوط کے تبادلے سے شروع ہوا۔
ان خطوط میں برطانیہ نے وعدہ کیا کہ اگر عرب اپنے علاقوں سے ترکوں کو نکال دیں تو لندن عربوں کی مکمل آزادی کو تسلیم کرے گا۔
لارنس آف عریبیہشریف حسین اور مصر میں برطانیہ کے نمائندے ہنری میکماہون کے درمیان خطوط میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا تھا کہ خلافت عربوں کے پاس ہو گی اور برطانیہ ایک آزاد عرب مملکت کو تسلیم کرے گا۔
جون 1916 میں حجاز میں بغاوت شروع ہوئی۔ عثمانی فوج اور شریف حسین کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہونے لگیں۔
شریف حسین کی افواج کو برطانوی حمایت حاصل تھی، جس کی ایک نمایاں مثال برطانوی افسر تھامس ایڈورڈ لارنس تھے، جو بعد میں ’لارنس آف عریبیہ‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔
یکم اکتوبر 1918 کو شریف حسین کے بیٹے فیصل دمشق میں داخل ہوئے، جس سے عربوں میں ایک بڑی آزاد عرب ریاست کے قیام کی امیدیں بڑھ گئیں۔
تاہم برطانیہ کے وعدے دیگر خفیہ سفارتی معاہدوں سے متصادم تھے، جس کے نتیجے میں اس خواب کی تعبیر ممکن نہ ہو سکی۔
سائیکس پیکو
مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کا خطہ پہلی عالمی جنگ سے قبل کئی دہائیوں تک برطانیہ اور فرانس کے درمیان نوآبادیاتی رقابت کا اہم میدان رہا۔
بعض مواقع پر دونوں طاقتوں نے اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر روس کو سلطنتِ عثمانیہ کے علاقوں تک رسائی حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون بھی کیا۔ اس زمانے میں سلطنتِ عثمانیہ اپنی مسلسل کمزوری اور زوال کے باعث ’یورپ کا مردِ بیمار‘ کہلاتی تھی۔
جب سلطنتِ عثمانیہ پہلی عالمی جنگ میں برطانیہ، فرانس اور روس کے مخالف اتحاد میں شامل ہوئی تو لندن اور پیرس میں اس کی سلطنت کو جنگ کے بعد تقسیم کرنے کے منصوبوں پر سنجیدگی سے غور شروع ہو گیا۔
1916 تک اتحادی افواج عثمانیوں کے خلاف فیصلہ کن کامیابی سے ابھی بہت دور تھیں۔ اگرچہ برطانوی افواج نے نہرِ سوئز پر عثمانی حملوں کو ناکام بنا دیا تھا، لیکن دوسری جانب اتحادیوں کی گلیپولی مہم، جس کا مقصد استنبول پر قبضہ کرنا تھا، بری طرح ناکام ہوئی۔ اسی دوران عراق کے محاذ پر بھی برطانوی فوج کو بھاری جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا۔
اس کے باوجود جنگی محاذ پر غیر یقینی صورتحال نے برطانیہ اور فرانس کو سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ انتظام علاقوں کے مستقبل پر خفیہ مذاکرات شروع کرنے سے نہیں روکا۔ ان مذاکرات میں فرانس کی نمائندگی سفارت کار فرانسوا جارج پیکو، جبکہ برطانیہ کی نمائندگی سفارت کار مارک سائیکس نے کی، اور بعد ازاں انھی کے نام پر مشہور ہونے والا ’سائیکس-پیکو معاہدہ‘ وجود میں آیا۔
مارک سائیکس( تصویر کے بائیں طرف) برطانیہ کی نمائندگی کر رہے تھے جبکہ جارج پیکو (دائیں) فرانس کی نمائندگی کر رہے تھےاس طرح سائیکس اور پیکو ایک ایسے وقت میں سلطنتِ عثمانیہ کے عرب علاقوں کے مستقبل پر خفیہ مذاکرات کر رہے تھے، جب دوسری جانب شریف حسین اور سر ہنری میک میہن کے درمیان خط و کتابت جاری تھی۔ جیسا کہ ماہرِ مشرقِ وسطیٰ کرسٹین کوٹس اولریچسن نے اپنی کتاب ’پہلی عالمی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ‘ میں لکھا ہے، یہ دونوں سفارتی عمل بیک وقت آگے بڑھ رہے تھے۔
کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد، برطانیہ اور فرانس مئی 1916 میں ایک خفیہ معاہدے پر متفق ہوئے، جو بعد میں ’سائیکس-پیکو معاہدے‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس معاہدے کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کے عرب علاقوں بشمول شام، عراق، فلسطین، لبنان اور اردن کو دونوں نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کے دائروں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
معاہدے کے مطابق، برطانیہ کو بغداد اور بصرہ کے عثمانی صوبوں پر براہِ راست کنٹرول حاصل ہونا تھا، جبکہ غزہ سے کرکوک تک پھیلے ہوئے ایک وسیع عرب علاقے میں اسے بالواسطہ اثر و رسوخ اور سرپرستی کا حق دیا جانا تھا۔
اس کے برعکس، فرانس کو شام کے ساحلی علاقوں پر براہِ راست اختیار ملنا تھا، جبکہ دمشق، حلب اور مشرق میں موصل تک پھیلے ہوئے وسیع علاقے میں اسے بالواسطہ اثر و رسوخ حاصل ہوتا۔
دونوں طاقتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ فلسطین کو ایک بین الاقوامی انتظامیہ کے تحت رکھا جائے۔ تاہم یہ انتظام بعد میں برطانیہ کی جانب سے کیے گئے ایک اور اہم وعدے سے متصادم ثابت ہوا، جس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سرحدوں پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
بیلفور معاہدہ
یروشلم میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے ایک ایسی سڑک واقع ہے جس کا نام شہر میں مختلف جذبات کو جنم دیتا ہے۔ فلسطینی اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ اسرائیلی اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
بلفور سٹریٹ کا نام ممتاز برطانوی سیاست دان آرتھر بلفور کے نام پر رکھا گیا ہے، جن کا نام مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں اُس وعدے سے جڑا ہے جو برطانیہ نے پہلی عالمی جنگ کے دوران یہودیوں سے کیا تھا۔
بیلفور معاہدے کا ذکر صہیونی تحریک کے حوالے کے بغیر ممکن نہیں، جو انیسویں صدی میں ابھری۔ اس تحریک نے یورپ سے یہودیوں کی ہجرت اور انھیں ایک وطن میں جمع کرنے کی وکالت کی، جو خصوصاً روس اور پولینڈ میں ان پر ہونے والے مظالم کے ردِعمل کے طور پر سامنے آئی۔
اگرچہ صہیونی تحریک کے بانیوں کے نزدیک فلسطین ہی واحد مقام نہیں تھا جہاں یورپ سے فرار ہونے والے یہودی آباد کیے جا سکتے تھے، اور اس فہرست میں ارجنٹینا اور مشرقی افریقہ جیسے مقامات بھی شامل تھے، تاہم فلسطین کی مذہبی و تاریخی اہمیت نے اسے یہودیوں کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیا۔
آرتھر بلفور اس وقت برطانیہ کے وزیرِ خارجہ تھے جب وہ وعدہ جاری کیا گیا جو بعد میں ان کے نام سے منسوب ہوا۔درحقیقت انیسویں صدی کے اختتام سے ہی فلسطین کی جانب یہودیوں کی ہجرت شروع ہو چکی تھی، اگرچہ عثمانی حکام، جو تقریباً چار صدیوں تک فلسطین پر حکمران رہے، نے یہودیوں کی زمینوں کی ملکیت پر بعض پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔
تاہم یہ پابندیاں ابتدائی یہودیوں کے سامنے واحد یا سب سے بڑا چیلنج نہیں تھیں۔ جب انیسویں صدی میں یہودی ہجرت کی پہلی لہر فلسطین پہنچی تو وہاں پہلے ہی لاکھوں عرب آباد تھے۔
اندازوں کے مطابق 1914 میں فلسطین کی کل آبادی تقریباً سات لاکھ تھی، جن میں اکثریت عربوں کی تھی۔ عبرانی یونیورسٹی کے ماہرِ آبادیات سرجیو ڈیلا پرگولا کی تحقیق کے مطابق یہودی آبادی کا تناسب تقریباً 13.6 فیصد تھا، جبکہ مصنف ایان بلیک اپنی کتاب ’دشمن اور ہمسائے‘ میں 1917 سے 2017 تک عربوں اور یہودیوں میں یہ شرح 8.5 فیصد بتاتے ہیں۔
جنگ سے پہلے اور اس کے دوران عرب حلقوں کی جانب سے صہیونی منصوبے کے بارے میں خبردار کرنے والی آوازیں بلند ہونے لگیں، جبکہ بعض یہودی کارکن ایسے مضامین شائع کر رہے تھے جن میں کہا گیا کہ عربوں اور یہودیوں کے درمیان تصادم ناگزیر ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کا امکان نہیں۔
نومبر 1917 میں، جب برطانوی فوج فلسطین میں عثمانی فوج کے خلاف لڑ رہی تھی، برطانیہ نے وہ وعدہ جاری کیا جو وزیرِ خارجہ آرتھر بلفور کے ایک خط کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ خط برطانیہ کی ممتاز یہودی شخصیات میں سے ایک بیرن لیونل روتھسچائلڈ کے نام لکھا گیا تھا۔
اس وعدے کے ذریعے برطانیہ نے عہد کیا کہ وہ فلسطین میں یہودی عوام کے لیے ایک قومی وطن کے قیام میں اپنی بھرپور کوششیں صرف کرے گا، بشرطیکہ اس سے فلسطین میں آباد غیر یہودی برادریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
مورخین اس بات پر مختلف آرا رکھتے ہیں کہ برطانیہ نے بیلفور معاہدہ کیوں جاری کیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا دو اہم وجوہات بیان کرتی ہے۔ پہلی یہ کہ برطانیہ نہرِ سوئز کے مشرق میں ایک محفوظ خطہ قائم کرنا چاہتا تھا، اور دوسری یہ کہ برطانوی سیاست دانوں کا خیال تھا کہ اس وعدے سے امریکہ میں یہودی حکومتِ امریکہ پر اتحادیوں کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
ایک نئی دنیا
1918 میں نومبر کی 11 تاریخ کو 11 بجے جنگ اتحادی طاقتوں کی فتح اور مرکزی طاقتوں، جن میں سلطنتِ عثمانیہ بھی شامل تھی، کی شکست پر باضابطہ طور پر ختم ہو گئی۔
پہلی عالمی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کے باشندوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ جنگ کی ہولناکیوں اور اس کے نتیجے میں آنے والی آفات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔ مثال کے طور پر جبلِ لبنان میں قحط سے اندازاً دو لاکھ افراد جان سے گئے۔
دشمن ریاستوں کی افواج میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لاکھوں باشندے فوجیوں یا مزدوروں کے طور پر شامل کیے گئے، اور یہ اکثر ان کی مرضی کے بغیر ہوا۔
اندازوں کے مطابق الجزائر، مراکش اور تیونس کے تقریباً تین لاکھ فوجیوں نے فرانسیسی افواج کے ساتھ پہلی عالمی جنگ میں حصہ لیا، جن میں سے تیس ہزار سے زیادہ ہلاک ہوئے۔
اسی طرح عثمانی سلطنت کے زیرِ حکومت علاقوں میں بھی مردوں کو فوج میں بھرتی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے قوانین نافذ کیے گئے۔
بعض مورخین کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ مصری، یعنی ملک کی کل آبادی کا قریب چار فیصد، رسد اتارنے، ریلوے لائنیں بچھانے اور ان کی تعمیر میں مصروف رہے۔
جنگ کے خاتمے کے بعد فاتح طاقتوں نے جنگ کے بعد کی دنیا کے مستقبل پر غور کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی بنیاد متعدد اصولوں اور مفاہمتوں پر تھی، جن میں امریکی صدر وڈرو ولسن کا اعلان کردہ قوموں کے حقِ خود ارادیت کا اصول نمایاں تھا۔
1919 میں پیرس میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں عصبۂ اقوام کے قیام، جرمنی پر عائد کی جانے والی تلافیوں، ہیپسبرگ سلطنت کی تقسیم، اور سلطنتِ عثمانیہ اور اس کے زیرِ انتظام علاقوں کے مستقبل سمیت متعدد معاملات پر بحث ہوئی۔
امیر فیصل بن حسین (بعد میں شاہ فیصل) 1919 کی پیرس امن کانفرنس میں شریک تھے۔پیرس میں شریک رہنماؤں نے عثمانی صوبوں اور سلطنتِ عثمانیہ کے باقی ماندہ حصوں کے مستقبل کی تفصیلات بعد کی کانفرنسوں اور معاہدوں، بشمول سان ریمو کانفرنس اور عصبۂ اقوام کے فیصلوں، کے سپرد کر دیں۔
ان معاہدوں کے تحت سلطنتِ عثمانیہ بہت حد تک سکڑ گئی اور 1923 میں جمہوریہ ترکی میں تبدیل ہو گئی۔ اگر مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ترک افواج یونان اور فرانس کی افواج کے خلاف کامیابیاں حاصل نہ کرتیں تو ترکی کا رقبہ موجودہ حدود سے کہیں کم ہو سکتا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر سابق عثمانی صوبے فرانسیسی اور برطانوی نگرانی کے تحت آ گئے۔
شام میں فرانس کو نگرانی کا حق ملا اور جنرل ہنری گورو کی قیادت میں فرانسیسی افواج نے 1920 میں دمشق میں داخل ہو کر کئی جھڑپوں اور معرکوں کے بعد فیصل بن حسین کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
لبنان میں اسی سال جنرل گورو نے ’ریاستِ لبنانِ کبیر‘ کے قیام کا اعلان کیا، جس میں جبلِ لبنان کے علاوہ بیروت، طرابلس اور صیدا سمیت کئی علاقے شامل کیے گئے۔
عراق میں برطانیہ نے شاہ فیصل کی حکمرانی کی حمایت کی تاکہ شام کے تخت سے محرومی کا ازالہ کیا جا سکے۔ عراق میں موصل کا پورا صوبہ شامل کیا گیا، حالانکہ سائیکس-پیکو معاہدے کے مطابق اسے برطانوی اور فرانسیسی حلقۂ اثر کے درمیان تقسیم ہونا تھا۔
برطانوی سیاست دانوں نے شمالی عراق میں ایک کرد ریاست کے قیام کی کوششوں کی بھی مخالفت کی، جبکہ عراق میں ہاشمی حکمرانی 1958 تک برقرار رہی۔
برطانیہ نے 1921 میں عبداللہ بن حسین کی امارتِ شرقِ اردن کی حکمرانی کی بھی حمایت کی، جو بعد میں مملکتِ اردن الہاشمیہ بن گئی۔
فلسطین برطانوی انتداب کے تحت آیا، جس نے تقریباً دو دہائیوں تک یورپ سے آنے والے دسیوں ہزار یہودیوں کی ہجرت کی اجازت دی، قبل اس کے کہ لندن یہودی ہجرت پر پابندیاں عائد کرتا۔
عربوں، یہودیوں اور برطانوی حکام کے درمیان کئی برس کی کشیدگی اور تشدد کے بعد برطانیہ نے نگرانی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد اسرائیل کا قیام عمل میں آیا اور 1948 میں پہلی عرب-اسرائیل جنگ چھڑ گئی، جسے 'نکبہ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اس طرح مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ پہلی عالمی جنگ نے ہماری معاصر دنیا کی تشکیل پر کس قدر گہرا اثر ڈالا۔ عرب ریاستوں کی سرحدیں جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہونے والے معاہدوں اور مفاہمتوں کی بنیاد پر متعین ہوئیں۔
اسی طرح اس دور میں کیے گئے کئی فیصلوں کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، جنگ کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات نے عوامی تصور میں ایسے افکار اور نظریات کی بنیاد رکھی جو بعد کی کئی دہائیوں تک پورے خطے میں پھیلتے رہے۔