ہاتھوں کی جلد پھٹ چکی ہے، سینہ بند رہتا ہے مگر ۔۔ مری کی سخت سردی میں کام کرنے والے سینٹری ورکرز کی داستان

image

سوات اور مری میں خون جما دینے والی سردی ہے۔ منچلے افراد وہاں سیر و تفریح کی غرض سے جاتے ہیں۔ جو کچھ ہی دن کی ہوتی ہے مگر جو لوگ وہاں رہتے ہیںا ن کے لیے اس سردی میں اکم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جو صفائی کرنے والا سینٹری عملہ ہے ان کی عظمت کو سلام ہے جو اتنے سخت درجہ حرارت میں بھی صاف سفائی کا کام نہیں چھوڑتے۔ اس میں چاہے برف کو ہٹانا ہو یا کچرا اٹھانا۔ سخت سردی میں گٹروں کے اندر جا کر صفائی کرنا ہو یا سڑکوں کی۔ یہ عملہ کبھی اپنے کام سے دور نمہیں بھاگتا۔ یہی وجہ ہے پاکستان کے ان خوبصورت مقام کی خوبصورتی برقرار رہتی ہے۔

آج ہم آپ کو سوات اور مری میں رہنے والے دو ورکرز کی کہانی بتا رہے ہیں جنہوں نے مقامی سیاحوں سے ابت کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ہاتھوں کی جلد پھٹ چکی ہے۔ جسم سے خؤن آنے لگتا ہے۔ جب بھی برف کو ہاتھ میں لیتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ہم مر جائیں گے۔ اور پھر جب ہمیں کوئی گٹر کی صفائی کرنے کے لیے بلائے تو یہی جملا منہ سے نکلتا ہے کہ کاش اندر برف نہ ہو۔

علی عمران جوکہ سڑکوں پر موجود برف کو ہٹانے اور کچرا صاف کرنے کا کام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ: '' مری میں سیاح آ تو جاتے۔ لیکن کچرا پھینک کر چلےجاتے ہیں۔ مقامی افراد بھی کچرے پھینکتے ہیں تو ہمیں برا لگتا ہے۔ کبھی کبھی صبح کے وقت اتنی سردی ہوتی ہے ایسا لگتا ہے کہ ہاتھ جم گئے ہیں۔ ہمارا کام اس قدر مشکل ہے۔ لیکن لوگ نہیں سمجھتے۔ پھر بھی ہمیں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ ''

نقاش کا تعلق سوات سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس کام کو کرنے میں کوئی مشکل نہیں۔ اور نہ برا لگتا۔ لیکن جب برف کو صاف کرتے کرتے اس میں ہاتھ دے کر کوئی کچرا یا کوئی چیز نکالنی پڑتی تو اس وقت تکلیف ہوتی ہے۔ مجھے جلدی بیماری ہے۔ مگر کمانے کے لیے مجھے یہ کام بھی کرنا پڑ رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US