سانحہ مری پہ جہاں ہر دل سوگوار، ہر آنکھ اشکبار ہے وہیں لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ گاڑیوں کے اندر ہیٹر چل رہا تھا تو لوگوں کی اموات کیسے ہوئیں؟ جبکہ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگ نیند کی کیفیت میں ہی موت کے منہ میں چلے گئے۔
غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ سردیوں میں اچانک ہی دم گھٹنے کے واقعات میں تیزی آجاتی ہے۔ آئیے ان عوامل کا جائزہ لیں اور ان سے بچنے کے طریقے جانیں
گاڑیوں میں دم گھٹنے کا سبب
گاڑیوں میں دم گھٹنے کے واقعات اس وقت پیش آتے ہیں جب گاڑی اسٹارٹ ہو اور کافی دیر تک چلائی نہ گئی ہو۔ موسم جتنا سرد ہوگا انجن چلنے سے ایندھن گاڑھا ہوتا جائے گا اور گاڑی بند یونے کی وجہ سے ہائیڈرو کاربن اور کاربن کونو آکسائیڈ گاڑی کے اندر بھی داخل ہوجائے گی جو خاموش قاتل ہیں۔
کاربن مونو آکسائیڈ ایک خاموش قاتل
کاربن مونو آکسائیڈ بغیر رنگ و بو گیس ہے جو سانس کے زریعے انسان کے خون میں شامل ہو کر دل، دماغ اور اعضاء کو مفلوج کردیتی ہے جس کا انجام موت کی صورت نکلتا ہے۔
جنریٹر سے بھی اموات ہوسکتی ہیں
چھوٹے، سستے اور غیر معیاری جنریٹر بھی انسانی جان کے لئے خطرناک ہیں کیونکہ ان کے انجن یا ایگزاسٹ فین میں فلٹر موجود نہیں ہوتا جس کی وجہ سے زہریلی گیس باہر آرہی ہوتی ہے
ہیٹر سے دم کیوں گھٹتا ہے؟
ہیٹر چلانے اور کمرہ گرم رکھنے کے لئے کمرے کو مکمل بند کرکے ہیٹر چلایا جاتا ہے۔ اگر ہیٹر چلنے کے دوران گیس بند ہو کر واپس آجائے تو ہیٹر کا چولہا چونکہ بند ہوچکا ہوتا ہے اس لیے زہریلی گیس ہوا میں پھیل جاتی ہے اور دم گھٹنے سے موت ہوجاتی ہے۔
برف باری کے موسم میں حفاظت کے طریقے
جہاں بھی جائیں وہاں کے موسم کے بارے میں مکمل حالات جان لیں اور اسی حساب سے کپڑے لے جائیں۔
برف باری میں گاڑی پھنس جائے تو ایک گھنٹے میں صرد دس منٹ گاڑی کا انجن اور ہیٹر چلائیں پھرر بند کردیں۔ گاڑی کو مکمل بند نہ کریں کوئی کھڑکی تھوڑی کھلی رکھیں اور وقتاً فوتاقتاً دروازے کے باہر سے برف ہٹاتے رہیں تاکہ گاڑی کا راستہ بلاک نہ ہو۔
برف باری میں سونے کے بجائے جاگتے رہنے کی کوشش کریں اور جسم کو حرکت میں رکھیں تاکہ ہائیپوتھرمیا سے بچ سکیں