قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں ہمیشہ کمزور ہی پھنستا ہے، یہ وہ جملہ ہے جو پاکستان میں ہر دوسرے شہری کی زبان زد عام ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو مجرم شاہ رخ جتوئی کے شاہانہ انداز کے بارے میں بتائیں گے۔
اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ جس میں پہلے ایک بنگلا خریدا گیا، پھر اس بنگلے کو اسپتال بنایا گیا، اسپتال بنانے کے بعد ہوم ڈیپارٹمن کی اجازت اور جیل عملے کی ملی بھگت سے مجرم شاہ رخ جتوئی کو اس بنگلے نما اسپتال میں داخلے کی اجازت دی گئی۔
بنگلے نما اسپتال میں آرام و سکون کی وہ تمام سہولیات مہیا کی گئی ہیں جو کہ ایک بنگلے میں ہوتی ہیں۔ اس طرح شاہ رخ جتوئی آسائشوں کی چھاؤں میں جیل کاٹ رہے ہیں یعنی مزے کر رہے ہیں۔ شاہ رخ جتوئی سے ان کے دوست احباب بھی ملنے آتے ہیں، جہاں وہ انجوائمنٹ بھی کرتے ہیں۔
اسپتال کی پہلی منزل پر شاہ رخ کی رہائش کا مکمل انتظام کیا گیا تاہم گراؤنڈ فلور پر اسپتال قائم کیا گیا تھا۔
واضح رہے 2012 میں شاہ رخ جتوئی اور ساتھی سراج تالپور نے 20 سالہ نوجوان شاہ زیب خان کو قتل کر دیا تھا جس کے بعد انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرمان کو سزائے موت سنائی تھی۔