“یہ راستے میں برف پھینکتے ہیں اور رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں جس کے بعد پھنسی ہوئی گاڑی کو ٹو کرنے کے لئے منہ مانگی رقم وصول کرتے ہیں“
یہ الفاظ ہیں ان مسافروں کے جو بھوربن میں ویڈیو بنا کر وہاں کے شرپسند افراد کا اصلی چہرہ سامنے لارہے ہیں۔ ویڈیو بنانے والے نے مزید کہا کہ “کل رات یہ روڈ صاف تھی لیکن اس کے بعد یہاں باقاعدہ برف پھینکی گئی تاکہ مسافروں کو لوٹا جاسکے۔ اس کے بعد صبح بھی روڈ صاف تھی اور اب کسی نے برف پھینکی ہے جو سیاہ ہو کر جم جائے گی۔ لوگ دیکھ نہیں سکیں گے اور گاڑی پھنس جائے گی۔ یہ یہاں کے مقامی لوگوں کا طریقہ ہے مسافروں سے پیسہ بنانے گا“
یہ ویڈیو معروف صحافی اطہر کاظمی نے اپنے وی لاگ میں شئیر کی ہے۔ اطہر کاظمی کہتے ہیں کہ مری کے مقامی افراد نے یہ روایت بنالی ہے کہ برف باری کے سیزن میں مسافروں کو لوٹا جاتا ہے۔ راستے بلاک کرکے گاڑی پھنسانے سے لے کر مہنگی خوراک یچنے تک مسافروں کو لوٹنے کے لئے ہر ممکن کام کیا جاتا ہے۔
اطہر کاظمی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس باقاعدہ ایجنسیوں کی رپورٹس موجود ہیں جن میں ان تمام افراد کے نام ہیں جو مقامی افراد کی ان شرپسند کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان میں محکموں کے افسروں سے لے کر انتظامیہ تک ملوث ہوتی ہے۔ وہی ان لوگوں سے رشوت لے کر ان کی سرپرستی کرتی ہے۔ البتہ ان میں مری کے تمام شہریوں کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہاں کے اچھے لوگ ھی نہ صرف شرپسندوں سے تنگ ہوتے ہیں بلکہ ان کی حرکتوں پر شرمندہ بھی ہوتے ہیں۔