ہر سال عید سے قبل چاند نظر آنے یا نہ آنے پر بحث جاری رہتی ہے۔ پورے پاکستان کی نگاہیں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر لگی ہوتی ہیں کہ عید کے چاند کا اعلان کب کیا جائے گا۔بعض اوقات چاند نظر آنے کی درست اطلاعات موصول نہیں ہوتیں اور کئی بار تو جھوٹی گواہی پر بھی یقین کر لیا جاتا ہے اور ایسے افراد کے خلاف اب کارروائی کا
فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں 5 بل پیش کیے گئے، جن میں چاند دیکھنے کے نظام کو درست کرنے اور رویت ہلال کمیٹی کو بااختیار بنانے کے لیے چاند دیکھنے کے حوالے سے موسمی تنازعات کو ختم کرنے کی کوشش کا بل بھی شامل تھا۔
خبر کے مطابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری نے وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے پاکستان رویت ہلال کمیٹی بل 2021 پیش کیا۔
مذکورہ بل صرف کمیٹی کے چئیر مین کےپاس ہوگا یا پھر اس کے نامزد شخص کے پاس ہوگا جس کے مطابق چاند کا اعلان کرنے کا حق بھی صرف اسی کے پاس ہوگا۔ اس کے علاوہ بل کی خلاف ورزی کرنے والے پر 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسی طرح بل میں چاند نظر آنے کی جھوٹی گواہی دینے والے کے لیے تین سال قید جبکہ 50 ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔