100 سال سے ایک شیشے میں بند یہ لڑکی کون ہے؟ جانیئے 3 ایسے لوگوں کے بارے میں اہم معلومات جن کو شیشے کے باکس میں بند کر دیا گیا

image

عام طور پر جب کوئی انسان وفات پا جاتا ہے تو اسے دفن کر دیا جاتا ہے اورمختلف مذاہب کے لحاظ سے اسے رخصت کیا جاتا ہے۔ لیکن دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی گزرے جن جو موت کے بعد دفنایا نہیں گیا بلکہ انہیں شیشے کے چیمبر میں فریز (جما) کر دیا گیا۔

ہماری ویب آپ کو چند ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے جا رہی ہے جن کی لاشوں کو کے شیشے کے باکس میں محفوظ کرلیا گیا۔

1- برانڈٹ لوردیس

برانڈٹ لوردیس کاتعلق فرانس سے تھا ۔ اس لڑکی کو تقریبا 100 سال پہلے یہاں شیشے کے باکس میں رکھا گیا تھا۔شیشے کا یہ چیمبر فرانس میں موجود ہے۔ برانڈٹ لوردیس 1840 میں فرانس میں پیدا ہوئی، بڑے ہوکرنن بن گئی جو دیکھے ہی دیکھتے فرانس کی کافی مقبول مذہبی شخصیت بن چکی تھی۔ برانڈٹ لوردیس کی موت 35 برس کی عمر میں ٹی بی سے ہوگئی تھی کیونکہ وہ بچپن س ہی بیمار رہتی تھی۔ بعد ازاں فیصلہ کیا کہ لڑکی کی لاش کو فروزن باکس میں رکھ دیا جائے۔ چند سال بعد لڑکی کے ہاتھوں اور چہرے کو نئے سرے سے ویکس کر کے نیا ڈیزائن دیا گیا۔اس لڑکی کی لاش اتنے سال گزرنے کے بعد بھی بالکل ویسی ہی موجود ہے۔

2- نکولے پیروگوف

شیشے میں بند یہ آدمی نکولے پیروگوف جس کا تعلق روس سے تھا۔ یہ آدمی ایک بہت بڑا سرجن تھا اور اس کی ساری زندگی مریضوں کی سرجریاں کرتے گزر گئیں۔ 1810 میں پیدا ہونے والے نکولے پیروگوف وہی شخص جس نے پلاسٹر ایجاد کیا تھاجو یہ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر لگاتا تھا۔بہر آل نکولے کے مرنے کے بعد اس کی بیوی نے فیصلہ کیا کہ اس کی لاش کو محفوظ کیا جائے گا۔ سن 1881 میں نکولے پیروگوف کی لاش کو شیشے کے چیمبر میں رکھ دیا گیا تھا۔ آج اس کی لاش یوکرین میں موجود ہے۔ 141 سال بعد بھی اس کی لاش کو لوگ دیکھ سکتے ہیں۔

3- ہوچی منکی

ویتنام کے سابق وزیراعظم ہوچی منکی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی لاش کو شیشے کے تابوت میں محفوظ کیا گیا۔ اس آدمی نے ویتتام کو سن 1945 میں آزادی دلوائی تھی۔ ہوچی منکی کی موت سن 1969 میں ہوئی تھی۔ ان کی لاش آج بھی شیشے کے باکس میں محفوظ کی ہوئی ہے۔ ہر سال ہزاروں ہوچی منکی کی لاش دیکھنے کے لیے وہاں کا رخ کرتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US