کراچی میں ڈکیتی کی وارداتیں اس حد تک عام ہو گئی ہیں کہ اب تونظر رکھنے پڑتی ہے کہ پیچھے آنے والی بائیک کہیں ہمیں لوٹنے ہی نہ آ رہی ہو۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں پولیس کی جانب سے کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ گھر ہی میں مشتعل ہجوم بھی ان مشبتہ افراد پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دراصل معاملہ کچھ یوں ہے کہ جیل چورنگی پر گزشتہ روز 4 مسلح افراد کی جانب سے لوٹ مار کی گئی تھی، جہاں کئی افراد کو ایک ہوٹل میں ہی لوٹ لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بہادر آباد، کشمیر روڈ اور طارق روڈ پر بھی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
پی ای سی ایچ ایس پر علامہ اقبال روڈ پر بھی یہ ملزمان واردات کی غرض سے آئے تھے، محمد عدنان زرشاد جو کہ اس واردات کا نشانہ بنے تھے انہوں نے ایک پوسٹ اپلوڈ کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ان ملزمان نے ہمارے پاس موجود قیمتی موبائل فون، سیگریٹس، جیکٹس ہر چیز چھین لی، جبکہ میرا موبائل گاڑی میں تھا اسی لیے بچ گیا۔
انہوں نے لکھا کہ دوست کا موبائل جو چوری ہوا تھا، اس کی لوکیشن ہمیں موصول ہو رہی تھی، جس کے بعد ہم نے تھانہ بریگیڈ پولیس اسٹیشن فون کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا۔
موصول شدہ لوکیشن پر چھاپہ مار کر پولیس نے واردات کے کچھ گھنٹوں بعد ہی مجرمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
مجرمان میں ایک مجرم فیضان خان بھی شامل ہے، جس کی ایک تصویر وائرل ہے۔ اس تصویر میں وہ شادی کی تقریب میں موجود ہے اور ویڈنگ وائبز کا اسٹیٹس بھی اپلوڈ کیا تھا۔