دنیا میں ایسے کئی ہیروز موجود ہیں جو کہ مشہور نہیں ہیں مگر وہ لوگ ضرور جانتے ہیں جو کہ انہیں روز یا کسی لمحے ٹکر جاتے ہیں۔ ایسے لوگ ایک ایسی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جس میں انہیں بہت سے مشکل لمحات سے گزرنا پڑتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
بی بی سی کے پراجیکٹ آپ کے ہیروز میں انٹرویو دینے والی ڈاکٹر سمعیہ سید طارق جناح اسپتال میں ایڈیشنل پولیس سرجن ہیں، جو سماج میں ہونے والے مختلف جرائم میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرتی ہیں۔
سمعیہ نے 1996 میں ڈاؤ یونی ورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا تھا، جبکہ 1999 میں پروفیشنلی اپنے کام کا آغاز کیا تھا، انہوں نے کمشن پر جناح اسپتال میں سرکاری نوکری حاصل کی اور پھر اس وقت سے آج تک وہ اپنے فرائض ایمانداری سے نبھا رہی ہیں۔
سمعیہ سید طارق کا شمار پاکستان کی ان باہمت اور حوصلہ مند خواتین میں ہوتا ہے جو کہ لاشوں کا نہ صرف پوسٹ مارٹم کرتی ہیں بلکہ ایسی خواتین سے بھی ملتی ہیں جو کہ زیادتی سمیت دیگر گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر سمعیہ بتاتی ہیں کہ خواتین اس حد تک مجبور ہوتی ہیں کہ ہاتھ پاؤں جوڑتی ہیں، خدارا نہ لکھیں، ہم رُل جائیں گی۔
ڈاکٹر سمعیہ کو اگرچہ 10 سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے مگر اب بھی وہ بچوں اور حاملہ خواتین کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے گھبرا جاتی ہیں۔ اپنی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بتاتے ہوئے وہ خود سہم سی گئیں جیسے کہ کل ہی واقعہ رونما ہوا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک حاملہ خاتون کی ڈیڈ باڈی لائی گئی تھی جسے گھر والوں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اُس حاملہ خاتون کے پیٹ سے بچے کی ٹانگ باہر آ رہی تھی، جسے دیکھ کر میں نہ صرف سہم گئی بلکہ ٹیبل پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ڈاکٹر سمعیہ کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ معاشرہ اس حد تک بھی بے حس ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ بتاتی ہیں کہ ہر قسم کے کیسز لائے جاتے ہیں سب سے کم شدت کا سڑک پر لڑائی جھگرے کے واقعات ہو سکتے ہیں جبکہ زیادہ شدت کا ڈیڈ باڈی ہو سکتی ہے۔
پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار سے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ پوسٹ مارٹم کے کچھ طریقہ کار ہوتے ہیں کہ جیسے کہ بیرونی پوسٹ مارٹم جس میں بیرونی چوٹیں، کپڑے، اور چیزوں پر خون سمیت کچھ بھی ایسا جو کہ پوسٹ مارٹم میں اہمیت اخیتار کرے وہ بیرونی طور پر اہمیت رکھتا ہے۔
جبکہ اندرونی طور پر پوسٹ مارٹم سے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ جہاں جتنی ضرورت ہوتی ہے اسی حساب سے ڈیڈ باڈی کو کھولا جاتا ہے۔ کئی بار سیمپل لینے کے لیے جسم کو کاٹنا بھی پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاہو ناک، کان، منہ سمیت کئی جگہوں سے سیمپل لیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سمعیہ بتاتی ہیں کہ جب ہم ڈیڈ باڈی کے پیٹ کا سیمپل لیتے ہیں تو پیٹ کو کاٹا جاتا ہے جس سے پیٹ اندر چلا جاتا ہے، اس سے ہو سکتا ہے لواحقین کو تکلیف ہو، اسی لیے ہم اس ڈیڈ باڈی کے پیٹ میں کپڑا رول کر دیتے ہیں اور پھر اسٹچ کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی کٹ لگاتے ہیں تو اسے مکمل طور پر سیتے بھی ہیں۔ تاکہ فیملی کو دیکھ کر بُرا نہ لگے۔
گھریلو تشدد کے واقعہ سے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ 4 سال پہلے ایک لڑکی میرے پاس آئی تھی اور کہہ رہی تھی کہ ڈاکٹر صاحبہ میاں میرا بہت مارتا پیٹتا ہے، اب میں تھک گئی ہوں اور کیس کروں گی۔ ایک ہفتے تک وہ لڑکی میرے پاس آتی رہی، جس میں کم شدت کی انجریز ثابت ہوئیں۔ پھر دوسرے ہفتے وہ ایک دوسرے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں، فریکچر کے ساتھ۔ اور تیسرے ہفتے وہ میرے پاس تو آئیں مگر لاش کی صورت میں، یعنی مار دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر سمعیہ کی زندگی میں ایک ایسا کیس بھی گزرا ہے جسے وہ کبھی نہیں بھول سکتی ہیں۔ جب کبھی کچرا کنڈی دیکھتی ہوں وہ بچی یاد آ جاتی ہے۔ ایک بچی لائی گئی تھی جو کہ تشویشناک حالت میں تھی۔ اس کے ہاتھوں کا کاٹا گیا تھا جبکہ ریپ بھی کیا گیا تھا۔ اور اوپر سے گلا بھی کاٹا گیا تھا۔ بچی کو یہ سمجھ کر کچرا کنڈی میں پھینکا گیا تھا کہ یہ مر گئی ہے، مگر اس کی سانسیں چل رہی تھیں۔
ڈاکٹر سمعیہ ایک ایسی باہمت خاتون ہیں جو کہ خواتین سمیت مردوں کے لیے حوصلے کی مثال بنتی جا رہی ہیں۔