باپ کے بعد اگر بھائی خیال نہ کرے، احساس نے کرے تو زندگی بیکار لگتی ہے ۔۔ بہنوں کے لیے بھائی سے بڑا آئیڈیل کوئی نہیں ہوتا، کچھ ایسی باتیں جو ہر گھر میں ہوتی ہیں

image
باپ گھر کا سرمایہ ہوتا ہے۔ اس کے بغیر گھر مکمل نہیں ہوتا۔ جس گھر میں باپ کی موجودگی نہ ہو اس گھر میں سکون اور حفاظت نہیں ہوتی۔ باپ کے بناء ہر کوئی سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ لیکن اگر باپ ساتھ ہو تو کوئی آواز نہیں اُٹھاتا۔ چاہے کوئی کتنا بھی قریبی رشتہ ہو باپ کی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔ باپ وہ سایہ ہے جس کے بناء اولاد کو کوئی نہیں پوچھتا۔
لیکن اکثر گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ جب والد کی وفات ہو جاتی ہے تو گھر کا سربراہ بھائیوں کو سمجھا جاتا ہے۔ کچھ بھائی اپنی بہنوں اور گھر والوں کے لیے سب کچھ کر لیتے ہیں انہیں والد کی کمی محسوس ہونے نہیں دیتے۔ جن گھروں کے بھائی اپنے بھائی بہنوں کو برابر کا درجہ اور اپنائیت نہیں دے پاتے وہ گھر قبرستان بن جاتے ہیں۔

کراچی کی ایک رہائشی اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتاتی ہیں کہ: '' میں نے میٹرک کا امتحان دیا تھا، کچھ دن بعد اچانک میرے ابو کا انتقال ہوگیا۔ ہم 7 بہنیں اور 4 بھائی تھے۔ پہلے تو سب بھائی مل جل کر رہتے تھے اور بہنوں کا خیال کرتے تھے۔ 4 بہنوں کی شادی ہوگئی تھی اور 3 بہنیں کنواری تھیں۔ بھائیوں نے ہر چیز کا خیال رکھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑا بھائی الگ ہوگیا اور پھر دوسرا بھائی۔ 2 چھوٹے بھائی تھے ایک دبئی چلا گیا، اور سب سے چھوٹا ہمیشہ سے اپنی ماں اور بہنوں کی ذمہ داری اٹھاتا آیا۔ اس نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی۔ 14 سال کی عمر سے گھر کی ذمہ داری اٹھاتا رہا۔ ساتھ پڑھائی لکھائی بھی کی۔ لیکن جوں ہی اس بھائی کی تعلیم مکمل ہوئی 6 ماہ بعد اس کی اچانک بخار میں موت ہوگئی۔ اس کی موت بوڑھی ماں اور بہنوں کے لیے سب سے بڑا نقصان تھا۔ اس کے بعد بھائیوں نے بہنوں کا خیال کرنا شروع کیا۔ ماں کی ذمہ داری میں اکیلی اٹھاتی رہی۔ آہستہ آہستہ سب بھائی دور ہوگئے۔ ہم 2 چھوٹی بہنوں اور ماں کو دیکھنے والا کوئی نہ رہا۔ ''
بیماری ہو یا کوئی دکھ درد ہم اکیلے ہی اپنا گزارہ کر رہے ہیں۔ جب سے باپ دنیا سے گیا جب سے اپنی ہاتھوں کی محنت پر گزارہ ہو رہا ہے۔ کوئی بھائی اتنا کیسے بدل سکتا ہے کہ اپنے بیوی بچوں کے لیے، اپنے کیریر کے لیے ماں اور بہنوں کو ہی چھوڑ دے۔ میری بہنیں ہماری مدد کرتی ہیں۔ لیکن بھائی کبھی یہ کہتے کہ عید آ رہی ہے تم بھی کپڑے بنا لو۔ بچپن کے بعد بھائیوں سے گھل مل کر بات کرنے کے لیے ترس گئے ہیں۔

میرا ذاتی تجربہ ہے: '' بھائی اگر مضبوط چٹان کی طرح ہوں تو بہنوں کو کبھی کسی در کے دھکے کھانے نہیں پڑیں گے۔ میرا سب سے چھوٹآ بھائی ہمیشہ اپنی بہنوں کو ساتھ لے کر چلتا تھا، اس نے سب کے لیے بہت کچھ کیا۔ آج اگر ہمیں تھوڑی بہت مالی امداد مل رہی ہے تو وہ اسی کی محنت سے مل رہی ہے۔ جن گھروں میں باپ نہ ہوں اور بھائی ہمارے جیسے ہوں وہاں عیدیں بھی خوشیوں سے خالی لگتی ہیں۔ ''

بھائی نہیں ہیں تو کیا ہوا؟ خاتون نے روتی آنکھوں سے یہ بھی کہا کہ:'' بھائی ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں تو کیا ہوا، میرا بڑا بھانجا تو ہے۔ وہ اپنی کمائی سے اپنا گھر بھی چلا رہا ہے اور ضعیف نانی کے گھر کا بھی خرچہ اُٹھا رہا ہے۔ بھانجیاں بھی ہیں 2، 2 جو اپنی محنت کی کمائی سے ہمیں کسی چیز کی پروہ ہونے نہیں دیتی ہیں۔ ''


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US