پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کمال لوگوں کی باکمال سروس ہے، کسی زمانے میں دنیا بھر میں اپنا لوہا منوانے والی پی آئی اے آج اپنے حادثات کی وجہ سے بدنام ہے۔
لیکن ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی واقعہ کے بارے میں بتائیں گے جس میں پائلٹ نے جہاز اڑانے سے انکار کر دیا۔
14 جنوری کو پی آئی اے کی پرواز پی کے 9754 اسلام آباد سے ریاض گئی تھی جسے واپس اسلام آباد آنا تھا، مگر موسم کی خرابی کے باعث پرواز دمام میں ہی ایمرجنسی لینڈنگ پر مجبور ہو گئی۔
جہاں پرواز کو نہ صرف موسم کے نارم ہونے کا انتظار کرنا پڑا بلکہ کلئیرنس کے لیے بھی 6 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ اس صورتحال میں پائلٹ نے جہاز اڑانے سے ہی انکار کر دیا۔
دمام ائیر پورٹ پر صورتحال اس وقت دلچسپ ہو گئی جب پی آئی اے کے پائلٹ نے موقف اپنایا کہ میری ڈیوٹی کا ٹائم ختم ہو گیا ہے اس لیے میں جہاز نہیں اڑاؤں گا۔ یہ سننا تھا اور مسافر آگ بگولا ہو گئے۔ نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اور سیدھا ائیر پورٹ پر ہی احتجاج کرنا شروع کر دیا۔
بہرحال انتظامیہ نے مسافروں کو سمجھا بجھا کر ایک طرف کر دیا، لیکن پائلٹ کا موقف بھی کچھ غلط نہیں تھا۔ دراصل پائلٹ پاکستان سول ایویشن کے رولز کے مطابق فیصلہ لے رہا تھا، رولز کے مطابق اگر پائلٹ کی ڈیوٹی ختم ہو جاتی ہے تو اسے آرام فراہم کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب پی آئی اے ذرائع نے بتایا کہ پائلٹ کو اصل تشویش مسافروں کی تھی۔ کیونکہ مسلسل ڈیوٹی پر ہونے کی وجہ سے تھکن انسان کو سونے پر مجبور کرسکتی ہے جو کہ کسی بھی سانحہ کا باعث بن سکتی تھی۔