بیوٹی پارلر نے منہ مانگے پیسے نہ دینے پر دلہن کا منہ دھلوا کر باہر نکال دیا
صارف عدالت نے دلہن کو تیار کرنے کی بجائے منہ دھو کر سیلون سے نکالنے کیخلاف ڈگری جاری کرتے ہوئے نجی سیلون کو حکم دیا کہ درخواست گزار کو 17 ہزار روپے ہرجانہ ادا کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کی صارف عدالت کے جج وسیم افضل نے ڈاکٹر شازیہ سکھیرا کے دعوی پر ڈگری جاری کی۔
صارف عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نجی میک اپ لاؤنج نے عدالتی نوٹس وصول کرنے سے انکار کیا اور اپنے خلاف ہرجانے کے دعوی کا دفاع نہ کرنے کا نتخاب کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے نجی سیلون کی تمام رسیدات اور گواہ پیش کیے۔ درخواست گزار ڈاکٹر شازیہ سکھیرا کا مؤقف پیش کیے گئے شواہد کی روشنی میں درست ہے۔ نجی میک اپ لاؤنج درخواست گزار کو 17 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرے۔
درخواست گزار کے مؤقف کے مطابق نجی میک اپ لاؤنج نے درخواست گزار کی کزن کومل مشتاق کے میک اپ کے لیے 10 ہزار روپے طے کیے۔ کومل مشتاق کے میک اپ کے دوران سیلون کی مالکہ نے 10 ہزار وصولی کے بعد مزید 15 ہزار روپے کا تقاضا کیا۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ طے شد رقم سے زیادہ معاوضہ طلب کرنے پر تکرار ہوئی تو سیلون مالکہ نے میک اپ والا منہ دھو کر سیلون سے باہر نکال دیا۔ کزن کومل مشتاق کا میک دوسرے بیوٹی سیلون سے کروا کر نکاح والا دن گزارا۔
ڈاکٹرشازیہ سکھیرا نے اپنے مؤقف میں کہا کہ میک اپ بکنگ معاہدے کی خلاف ورزی پر نجی میک لاؤنج کو ازالے کیلئے قانونی نوٹس بھی بھجوایا۔ بیوٹی پارلر کی وجہ سے شدید ذہنی کوفت اور رشتہ داروں میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
درخواست گزار نے صارف عدالت سے اسدعا کی کہ نجی میک اپ لاؤنج کے خلاف 10 لاکھ 10 ہزار روپے ہرجانے کی ڈگری جاری کی جائے جس پر صارف عدالت نے ڈاکٹر شازیہ سکھیرا کے دعوی پر ڈگری جاری کرتے ہوئے نجی بیوٹی سیلون کو جرمانے کا حکم دیا۔