یہاں دبئی سے چیزیں لائی جاتی ہیں ۔۔ جانیے بھارت میں یہ علاقہ چھوٹا یمن کے نام سے کیوں مشہور ہے اور یہاں کے لوگ صرف عربی کیوں ہیں؟

image

سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز دیکھی ہوں گی جس میں منفرد اور دلچسپ معلومات موجود ہوتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو یمنی خاندانوں کے بارے میں بتائیں گے جو کہ بھارت میں بس رہے ہیں۔

انڈیپینڈینٹ اردو کی جانب سے ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی تھی جس میں بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں ایسے خاندانوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جو کہ یمن سے تعلق رکھتے ہیں۔

یمنی نژاد بھارتی حیدرآباد دکن کے علاقے بارکس میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، اس علاقے میں یمنی نژاد مکمل یمنی طور طریقوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ جب بھی کوئی اس علاقے سے گزرتا ہے تو اسے یقین ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ بھارت میں ہے کیونکہ اس علاقے میں یمنی نژاد اپنی ثفافت کے حساب سے زندگی گزار رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک یمنی نژاد بھارتی طلحٰہ الکثیری سے انڈیپینڈینٹ اردو نے بات کی، طلحٰہ کا کہنا تھا کہ ہم تقریبا ڈیڑھ سو سال سے اسی علاقے میں آباد ہیں، طلحٰہ مکمل طور پر اردو اور ہندی زبان میں ہی انٹرویو دے رہے تھے۔ عام طور پر یمنی عربی ہی بولتے ہیں لیکن یہاں بسنے والے بڑے ہی دلچسپ انداز میں اردو اور ہندی بولتے ہیں۔

ایک اور شہری سعود بن سعید باعوم کا کہنا ہے کہ اب یہاں ڈیڑھ لاکھ سے زائد عرب یمنی باشندے آباد ہیں، اس علاقے سب کسی نا کسی طرح ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یمن میں لُنگی اور شرٹ پہننے کا رواج ہے، جو یہاں بھی اسی طرح اپنایا جاتا ہے۔

دوسری جانب اس علاقے میں باقاعدہ طور پر عید اور شادی بیاہ کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور ان تمام تقریبات میں یمنی ثقافت کا رنگ نمایاں ہوتا ہے۔ دوسری جانب کھانے پینے کے حوالے سے بھی کھجور اور قہوہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ناشتے میں کھجور اور قہوہ سب کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔

یمنی خواتین جو کہ میکسی پہنتی ہیں، وہ یہاں کی یمنی نژاد بھارتی خواتین بھی پہنتی ہیں جو کہ دبئی سے برآمد کی جاتی ہیں۔ یہاں کی مارکیٹس میں بھی یمنی ماحول کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ باریکس کے علاقے میں موجود مارکیٹس اُن مارکیٹس میں شمار کی جاتی ہیں جہاں عرب سے آیا ہوا مال بیچا جاتا ہے۔

یمنی نژاد یہاں کیسے آئے؟

طلحٰہ الکثیری بتاتے ہیں کہ نظام حکمران نے خصوصی طور پر عرب رجمنٹ کو بلوایا تھا، تب ہمارے بڑے یہاں آئے تھے اور اب تک یہاں آباد ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تین سو سے چار سو قبیلے یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US