بحریہ ٹاؤن اب رہائشیوں سے بدلے پر اتر آیا، خاتون کی دکان کے سامنے گہری خندق کی کھدائی، متاثرین کا الزام

image

پُرسکون زندگی کا خواب بحریہ ٹاﺅن کراچی کا دعویٰ ،لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔

بحریہ ٹاؤن کے رہایشی کئی ماہ سے سراپا احتجاج ہیں لیکن مین اسٹریم میڈیا پر اُن کے مسائل کو اجاگر نہیں کیاجارہا لہذا وہاں کے رہائشیوں نے انفرادی سطح اپنے مسائل دنیاکے سامنے لانے کے لئے شوشل میڈیا پر ویڈیوزکا سہارا لیا ہے۔

کچھ دنوں پہلے ایسی ویڈیوز وائرل ہوئی جس میں بحریہ ٹاﺅن کے رہائشی جناح ایونیو پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنے اوپر ہونے والی نا انصافی پر نعرے لگاتے ہوئے دیکھائی دیے جس میں مینٹنس کی مد میں زائد لئے جانے والی رقم اور پانی کے زائد بلز کا ذکر دیکھا جاسکتا ہے۔

بحریہ ٹاﺅن مکینون کی طرف سے کل ایک اورویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی جس میں ایک خاتون کے ریسٹورنٹ کے آگے ایک بڑی خندق کھودی ہوئی نظر آتی ہے ،خاتون کا کہنا ہے کہ وہ بہت سے خواب لے کربحریہ ٹاﺅن شفٹ ہوئی تھی لیکن ان دو سالوں میں انھیں کبھی سکون سے رہنے نہیں دیا گیا۔

خاتون کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اپنے حقوق پر آواز اُٹھانے کی سزا دی جارہی ہے ۔خاتون کے مطابق انھیں بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کے اس فعل کے باعث انھیں ڈیڑھ لاکھ کانقصان ہوا ۔خاتون ویڈیو میںیہ کہتی نظر آرہی ہیں کہ میں نے سوچا تھا کہ بحریہ ٹاﺅن میں خواتین آرام سے بناءخوف کام کر سکیں گی لیکن ایسا نا ہوا۔

بحریہ ٹاﺅن کے ایک اور رہائشی بھی اس ویڈیو میں کہتے ہیں کہ یہاں ایسا کوئی کام نہیں ہورہا جس کی وجہ خندق کھودی جاتی ۔ظاہر یہ کیاجارہا ہے کہ پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی ہے جبکہ یہاں سے کسی لائن کا گزر ہی نہیں۔مزید یہ کہ یہ کام راتوں رات ہوا۔ ہمیں تنگ کرنے کے لئے باہر سے مٹی لاکر ڈالی گئی۔

ہم نے مدد کے لئے 15پولیس سے رابطہ کیا جس کے بعد پولیس نے اس ساری جگہ کا بغور جائزہ لیا ۔جب بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کو اس حوالے سے علم ہوا تو انھوں یہاں پانی کی لائن کے پائپ لا کر رکھ دیے جو کہی بھی استعمال نہیں ہونگے۔

مزید یہ جتنا پیسہ بحریہ ٹاﺅن کے رہائشیوں کو تنگ کرنے کے لئے لگا یا جارہا ہے اتنا ہی پیسہ بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ اگر یہاں کے رہائشیوں کی فلاح کے لئے خرچ کرے تو بہتر ہوگا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US