لڑکیاں جتنی پوزیشن لے لیں، اچھی نوکریاں مردوں کو ہی ملتی ہیں ۔۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے نوجوان نسل کس حد تک متاثر ہو رہے ہیں

image
اسکول ہو یا کالج، جامعات ہوں کوئی ڈگری کورسز ہر کلاس میں لڑکیاں محنت سے پڑھائی کرکے پوزیشن لے کر آتی ہیں۔ زیادہ تر پوزیشن ہولڈر لڑکیاں ہی کلاسوں میں ہوتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ لڑکے اچھا نہیں پڑھتے، لیکن اوسطً ایسا دیکھا جاتا ہے کہ لڑکیاں پڑھائی میں آگے رہتی ہیں۔ لیکن پھر بھی اصل زندگی میں یہی لڑکیاں جب نوکری کے لیے باہر نکلتی ہیں تو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ لڑکیوں کو اگر ایک اچھی نوکری بھی مل جائے تو بھی تنخواہ مردوں کی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک ادارے کا حال نہیں ہے بلکہ اکثر اداروں میں یہی دیکھا گیا ہے۔ کسی جگہ اگر لڑکیوں کو نوکریاں مل جائیں تو سننے میں آتا ہے کہ کسی مرد کی جگہ لے لی جبکہ ہر گز ایسا نہیں ہوتا۔ ملک میں جس قدر بے روزگاری بڑھ رہی ہے وہ ایک خوفناک صورتحال پیش کر رہی ہے۔ بچے اسکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل تو کر رہے ہیں لیکن جب یہ بچے تعلیم حاصل کرکے نوکری کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انہیں ایک وقت پر پہنچ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے جامعہ کے 4 سال جو کچھ بھی پڑھا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مارکیٹ میں تو نوکری دستیاب ہی نہیں ہے۔
اگر نوکری مل بھی جاتی ہے تو اجرت کے حساب سے تنخواہ نہیں۔ لیکن بے روزگاری کے دھبے سے بچنے کے لیے نوجوان کم پیسوں میں بھی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں بے روزگاری دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ پڑھائی کا معیار بہتر سے بہتر اور بدتر سے بدتر ہو رہا ہے۔ ایک صوبے میں سرکاری سطح پر معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے تو سندھ جیسے صوبے میں تعلیم کی انتہائی غیر صورتحال ہے۔ ذہنی اذیت کی اگر بات کریں تو آج کا نوجوان جتنے مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے وہ شاید سب سے زیادہ ہیں۔ اس کو کم عمر میں کامیاب بھی بننا ہے، پڑھائی کے ساتھ نوکری یا پڑھائی کے بعد 5 ڈجٹ کی سیلری بھی چاہیے ۔ اس کو گھر بھی چلانا ہے، پھر کیریئر پر فوکس بھی کرنا ہے۔ نوکری نہ ملنے کا صدمہ آج کی نوجوان نسل برداشت نہیں کر پا رہی ہے۔ کوئی اندر ہی اندر ذہنی مسائل میں مبتلا ہو رہا ہے تو کسی کا بلد پریشر بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں کچھ ماہ قبل ایک نوجوان نے شاپنگ مالک کے تیسرے فلور سے چھلانگ لگا دی تھی کیونکہ اس کو نوکری نہیں مل رہی تھی۔ یہ سب صرف کراچی کا حال ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے نوجوانوں کی یہی صورتحال ہے۔ حکومت اس حوالے سے خاطر خواہ انتظامات کیوں نہیں کرتی؟ اگر مزید یہی صورتحال رہی تو شاید لڑکے اور لڑکیاں ملک کی ترقی میں اہم کردار نبھانے سے زیادہ نفسیاتی اداروں کے اندر بطور مریض بھرتی ہوتے نظر آئیں گے۔
لڑکیوں کے ساتھ تو یہ زیادتی لڑکوں سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اکثر اداروں میں خواتین کی تنخواہ مردوں کے مقابلے کم ہوتی ہے۔ ایک شادی شدہ مرد کو تو نوکری پر رکھنے کے لیے لوگ تیار ہوتے ہیں لیکن ایک عورت کو نہیں جبکہ یہ فطرت اکثر دیکھی گئی ہے کہ عورتیں کام دلجوئی سے کرتی ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں؟

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US