“ہمارے ہاں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا رواج ہے۔ جب کوئی کیلاشی لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرلیتے ہیں تو لڑکی اپنے گھر والوں کو بتا دیتی ہے کہ آج وہ گھر سے بھاگ جائے گی “
یہ کہنا ہے زائنہ کا جو انڈیپینڈینٹ اردو کو وادی قلاش میں شادی کے رسم و رواج سے آگاہ کررہی تھیں۔ وادی کلاش جہاں بہت زیادہ خوبصورت ہے وہیں یہ دنیا سے بالکل الگ ایسے رسم و رواج رکھتی ہے جو کہیں اور نہیں پائے جاتے۔ اس آرٹیکل میں ہم بات کریں گے یہاں پر شادی کے موقع پر ہونے والے رسم و رواج کے بارے میں
؛
شادی کیسے ہوتی ہے؟
13 مئی سے 16 مئی تک کیلاش کا سالانہ تہوار “چلم جوش“ منایا جاتا ہے جس میں لڑکیاں گول دائرے میں روایتی رقص کرتی ہیں۔ اسی دوران لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور 18 اگست سے لے کر 21 اگست تک “اوچال“ کے تہوار پر شادیاں کرتے ہیں۔
بکرے کے خون کو نکاح کا اعلان مانا جاتا ہے
گھر سے بھاگنے کے بعد لڑکی اپنی ساس اور نند کے ساتھ رہتی ہے اور کچھ عرصے بعد اس کے والدین اسے لے جاتے ہیں اور شادی کی تاریخ طے کردیتے ہیں اس کے بعد بارات بلائی جاتی ہے اور بکرے ذبح کرکے دعوت کی جاتی ہے۔ ذبح ہوئے بکرے کا خون ہی نکاح کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔
دلہا بھی تحفے دیتا ہے
کیلاش میں شادی کے وقت لڑکی والے جہیز میں کم سے کم 30 بکریاں اور ایک گائے ضرور دیتے ہیں جبکہ دلہا بھی شادی میں آنے والے دلہن کے ہر رشتے دار کو 20 ہزار روپے بمع دیگ اور دلہن کے ماموں کو 50 ہزار روپے یا ایک بیل دیتا ہے۔