جس کی ایک آواز سے شہر کا شہر بند ہوجاتا تھا.. جانیے مشہور سیاست دان الطاف حسین کی چند دلچسپ باتیں

image

اس کی سیاست کو ہم جو نام دیں، اس پر جیسا بھی الزام ہو، لیکن اسے ایک کمال کرنے کا کریڈٹ تو دیا جانا چاہے، وہ اپنے چھوٹے سے گھر کے دروازے سے نکلا، اپنی اسکوٹرا اسٹارٹ کی اور سست رفتار سے چلتا ہوا ساری رکاوٹیں پار کرکے پاکستان کی اس سیاست میں داخل ہوگیا جو دولت مندوں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے لیے مخصوص تھی۔ آپ نے صحیح سمجھا، ذکرہے ۔الطاف حسین کا شاید ملک کے متنازعہ ترین سیاست داں، جن سے نفرت کرنے والے بے شمار، تو محبت کرنے والے بھی کم نہیں۔

جامعہ کراچی سے سیاسی تنظیم کا آغاز

جامعات میں تشدد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا، جس کا سامنا الطاف حسین اور ان کی نومولود تنظیم کو بھی کرنا پڑا اور الطاف حسین کو اپنی تنظیم سمیت جامعہ کراچی کو الوداع کہنا پڑا۔ الطاف حسین کو 1979ء میں اس وقت کی مارشل لا حکومت نے بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پرگرفتار کر لیا، ان پر قومی پرچم جلانے کا الزام لگا اور انہیں نو ماہ قید کی سزاہوئی۔ اس کے بعد اے پی ایم ایس او کے بطن سے مہاجرقومی موومنٹ نے جنم لیا، اور الطاف حسین اپنے ساتھیوں سمیت اپنی تنظیم کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں منہمک ہوگئے۔

تقاریر سے عوام میں مقبولیت

اور پھر ہم کراچی کے معروف نشتر پارک میں ہزاروں افراد کا مجمع دیکھتے ہیں، جو بارش میں بھیگتے ہوئے الطاف حسین کا پرجوش خطاب پورے انہماک سے سُن رہا ہے اور اس کے نعروں سے فضا گونج رہی ہے۔ یہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی کام یابیوں کا نقطہ¿ آغاز تھا۔ کچھ عرصے بعد حیدرآباد میں ہونے والے بڑے جلسے اور اس جلسے میں شرکت کے لیے جانے والے جلوس پر سہراب گوٹھ پر ہونے والی فائرنگ اور ہلاکتوں نے یکایک الطاف حسین کو مہاجروں کا مسیحا بنا دیا۔ فسادات کا یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا اور ایم کیوایم مضبوط سے مضبوط تر ہوتی رہی۔ چناں چہ جب بلدیاتی انتخابات ہوئے تو یہ دیکھ کر خود ایم کیوایم کے راہ نما اور کارکن بھی حیران رہ گئے کہ اس نئی اور خالصتاً نوجوانوں کی جماعت نے کراچی اور حیدرآباد سے ان شہروں میں عشروں سے سیاست کرنے والی جماعتوں کا مکمل صفایا کردیا تھا۔

کراچی میں ایم کیو ایم کی بادشاہت

پھر تو ایم کیوایم اور انتخابی کام یابی لازم وملزوم ہوگئی، اور آگے ہونے والے سارے انتخابات میں کراچی اور حیدرآباد میں مہاجر اکثریت کے تمام حلقوں میں ایم کیوایم تواتر سے جیتّی رہی۔ لیکن ساتھ ہی ایم کیوایم پر تشدد، بھتا خوری، مخالفین کے قتل جیسے سنگین الزامات بھی لگنے لگے۔ ان الزامات کے جُلو میں ایم کیوایم کونسلروں کی نشست سے صوبائی اور وفاقی وزراءکے مناصب تک جا پہنچی۔اور پھر ایک دن اس اطلاع نے سب کو ششدر کر دیا کہ جس ایم کیوایم میں اتحاد اور تنظیم کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں اس کے راہ نما آفاق احمد، عامرخان اور بدراقبال نے الطاف حسین سے اپنی راہیں الگ کرلی ہیں اور علیحدہ گروپ کی صورت میں سامنے آئے ہیں، جسے پہلے منحرف گروپ کا نام دیا گیا، بعد میں اس نے حقیقی کے طور پر خود کو متعارف کرایا۔ اس گروپ کے وجود میں آنے کے بعد کراچی میں وہ آپریشن شروع ہوگیا جسے دنیا بانوے کے آپریشن کے نام سے جانتی ہے۔ اس کے شروع ہونے سے قبل ہی الطاف حسین لندن کا راستہ لے چکے تھے۔ لندن میں رہتے ہوئے الطاف حسین نے ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے اپنے حامیوں سے جُڑے رہنے کا نیا رجحان متعارف کرایا۔

ایم کیو ایم کی سیاست اور منفی سرگرمیاں

وقت گزرتا گیا، حکومتیں بدلتی گئیں، ایم کیوایم کبھی حکومت میں شامل ہوتی اور پھر الگ ہوکر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوجاتی۔ پہلے آپریش کے بعد کراچی کو دوسرا آپریشن بھی دیکھنا پڑا، جو پہلے سے کہیں زیادہ خوف ناک تھا۔ ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، عام شہریوں کی ہلاکتیں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں کی جان لینے کے واقعات نے کراچی کو جنگل بنادیا۔ اس سب کے دوران الطاف حسین کی مقبولیت برقرار رہی بلکہ ان کا مرتبہ بڑھتا ہے، پہلے وہ قائد کہلاتے تھے، پھر ترقی کرکے پیرصاحب کہے جانے لگے۔ الطاف حسین کی لہو گرماتی تقریریں جو پہلے لوگ انھیں سامنے دیکھتے ہوئے براہ راست سنا کرتے تھے، اب بہت دور ٹیلیفون کی مدد سے ان تک پہنچتی تھیں، لیکن پنڈال یوں ہی بھرے ہوتے تھے جیسے ان کا لیڈر سامنے اسٹیج پر کھڑا ان سے مخاطب ہو۔

ایک آواز سے شہر پر راج کرتے تھے

الطاف حسین اپنی تنظیم کے قائد سے بڑھ کر کسی ملوکیت زدہ ریاست کے مختارِکُل بادشاہ کا روپ دھار چکے تھے، ایم کیوایم کے راہ نماﺅں اور کارکنوں کے لیے تو ان کا ہر لفظ حرف آخر تھا ہی، کراچی سمیت شہری سندھ میں بھی ان ہی کی چلتی تھی، اور جوں ہی لندن میں ان کی قیام گاہ سے ہڑتال کا حکم صادر ہوتا کراچی میں زندگی کا پہیا رک جاتا تھا۔ الطاف حسین کی اپنی تنظیم پر مضبوط گرفت اور انھیں مہاجروں کی حاصل شدہ حمایت ہی تھی کہ مہاجرقومیت کا پرچار کرنے والے سیاست داں نے ایک روز اپنی تنظیم کو مہاجرقومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کردیا تو کہیں سے کوئی مخالفانہ آواز بلند نہ ہوئی، آگے چل کر انھوں نے مہاجر کا لفظ ترک کرکے اردو بولنے والے سندھی کی اصطلاح استعمال کرنی شروع کردی۔

شادی جو کامیاب نہ ہوئی

ایک دن انھوں نے شادی کرکے لوگوں کو چونکا دیا۔فائزہ گبول سے شادی کی قدرت نے الطاف حسین کو ایک بیٹی افضا سے نوازا۔ یہ شادی برقرار نہ رہ سکی، اور جوڑے میں طلاق ہوگئی ہے۔

سندھ حکومت میں حصہ

مشرف کے دور میں پہلی بار ایم کیوایم کو سندھ کی گورنرشپ ملی، صوبے کی وزارتوں میں برابر کا حصہ ملا، مرکز میں اہم وزارتیں دی گئ بلدیاتی اداروں کا اقتدار اس کے ہاتھ آیا اور کراچی میں تعمیر وترقی کا نیا باب شروع ہوا

اشتعال انگیز بیانات

رفتہ رفتہ جادو کی سی تاثیر رکھنے والی الطاف حسین کی تقریریں، کبھی اشتعال پھیلاتی آگ میں بدلنے لگیں تو کبھی لوگوں کی تفریح کا سامان بننے لگیں۔ ان تقریروں میں گانے، ہلکے پھلکے رقص کے مناظر، ایک پپی ادھر ایک پپی اُدھر جیسے جملے، دھمکی آمیز فقرے شامل ہوتے اور بڑھتے گئے، جس کی وجہ سے خود مہاجروں میں الطاف حسین کے خلاف ردعمل پیدا ہونے لگا، ساتھ ہی حکومتوں اور اداروں میں بھی ان کی مخالفت بڑھتی چلی گئی۔ لندن میں الطاف حسین کے دیرینہ ساتھی اور ایم کیوایم کے مرکزی راہ نما ڈاکٹر عمران فاروق کے پُراسرار قتل اور منی لانڈرنگ کے الزام نے ان کی مشکلات بڑھادیں جس نے ان کا غصہ بھی بڑھا دیا،

کراچی میں ایم کیو ایم کا باب ختم

پھر کراچی میں ایک اور آپریشن کے آغاز نے ان کے غصے کو مزید شدید کردیا جس کے نتیجے میں 22اگست 2016 الطاف حسین کی ایک تقریر نے گویا پاکستان کی سیاست سے بانی ایم کیو ایم کا باب بند کردیا۔

شکست خوردہ جماعت

جس سے ایم کیوایم کوشدید نقصان پہنچااب یہ ایک کم زور، ٹکڑوں میں بٹی ہوئی اور پے در پے انتخابات میںکام یابیوں کے بعد شکست خوردہ جماعت بن گئی۔

الطاف حسین اب کہاں ہیں؟

آج الطاف حسین لندن میں رہتے ہوئے مہاجروں کے حقوق اور دو فی صد طبقے کی محرومیوں کے اپنے پرانے نعرے بھول کر کبھی کسی دیش کی باتیں کرتے ہیں تو کبھی بھارت سے شہریت کی درخواست۔ آج بانی ایم کیوایم لندن میں زندگی گزار رہے اور پارٹی کا حال ساری دنیا کے سامنے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US