بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔ مسکان کے حق میں بنائی جانے والی پوسٹس ہٹا دی گیئں۔

image

حالیہ چند سالوں میں سوشل میڈیا اب کتنا تہلکہ خیز، اہم اور پُراثر ہوچکا ہے، اس کا اندازہ گذشتہ دنوں بھارت میں ایک نڈر مسلمان لڑکی مُسکان کی حمایت میں اٹھنے والی لہر ہے، جس نے بھارت کے ہندو انتہا پسندوں اور ان کی حکومت کے منہ پر سیاہی مل دی۔ بھارتی ریاست کرناٹک کی درس گاہوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف مُسکان کا ردعمل جرأت اظہار کا مظہر بن کر سامنے آیا۔

حجاب پہن کر اسکوٹی چلاتی آنے والی اس لڑکی نے جس طرح خود کو ہراساں کرنے والے بیسیوں افراد کے سامنے ڈٹ کر اللہ اکبر کے نعرے لگائے، اس کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر وائرل ہوکر ہر طرف دھوم مچادی۔ یہ آواز ساری دنیا میں پہنچی، اور دنیا بھر سے حجاب پر پابندی کے خلاف صدائیں بلند ہونے لگیں۔ اس ایک ویڈیو نے بھارت کو دنیا بھر میں رسوا کرکے رکھ دیا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، امریکا میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام کے دم گھٹنے سے ہلاکت کا سانحہ ہو یا پاکستان میں سری لنکن باشندے کو ہجوم کے درندگی کے ساتھ جلا ڈالنے کا دل خراش واقعہ، اس نوعیت کے اکثر المیے سوشل میڈیا کے ذریعے ہی عالمی اور حکومتوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔

جہاں سوشل میڈیا نے سماجی شعور اور آگاہی میں اضافہ کیا ہے اور رائے عامہ کو منظم کرنے اور بھرپور انداز میں سامنے لانے کا سامان کیا ہے، وہیں اس میڈیا نے نفرت، عصبیت اور تشدد کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کیا ہے، تاہم سماجی میڈیا ماضی کی طرح بے لگام اور مادرپدر آزاد نہیں رہا، آج بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مقابلے میں کہیں زیادہ آزاد ہیں، جہاں اظہار رائے پر کہیں کم قدغنیں ہیں، تاہم ان سائٹس نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے ذریعے سوشل میڈیا کا منفی استعمال کم سے کم کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر فیس بک پر آنے والی کوئی پوسٹ اگر اس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کی پالیسی کے خلاف ہو تو پوسٹ کرنے والے کو نوٹی فیکیشن کے ذریعے تنبیہ کی جاتی ہے اور اس پوسٹ کو ہٹانے یا اس میں شامل پالیسی کے خلاف مواد نکال دینے کو کہا جاتا ہے۔

بعض اوقات فیس بک خود ہی ایسی کسی پوسٹ کو ہٹا دیتی ہے اور اپنی پالیسی کی خلاف کرنے والے اکاﺅنٹ کو مستقل طور پر ختم یا عارضی طور پر ڈی ایکٹیویٹ کردیا جاتا ہے۔ ایسی تمام صورت میں فیس بک کمپنی باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ویڈیو ڈیلٹ کردیتی ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات ٹوئٹر اور دیگر سماجی ویب سائٹس پر بھی کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس سارے معاملے کا افسوس ناک پہلو ان سماجی ویب سائٹس کا متعصبانہ اور جانب دارانہ رویہ ہے مسکان کی بہادری کی جھلک دکھاتی وڈیو کا پراسرار طور طور فیس بک سے غائب ہوجانا ہے، جس کا کوئی نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا۔ یہ عمل فیس بک کی بھارت نواز پالیسی کے سبب ہوا۔

فیس بک کمپنی تواتر کے ساتھ بھارت نوازی اور اسرائیل نوازی کے مظاہرے کرتی رہی ہے۔ اس سے قبل کشمیریوں کی حمایت میں آنے والی پوسٹوں اور بھارتی مسلمانوں سے ہونے والی بدسلوکی پر مبنی مواد کو بھی اسی طرح غائب کیا جاتا رہا ہے اور فلسطینیوں پر صیہونی ریاست کے مظالم کی تصویر کرتی پوسٹوں اور پروفائلز کے ساتھ بھی فیس بک کا رویہ یہی رہا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کا واضح اظہار ہے کہ فیس بک پر بھارت کا اثروسوخ کس حد تک بڑھ چکا ہے۔ اس کا سبب فیس بک میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات بھارتی بھی ہیں، بھارتیوں کی کثیر تعداد کا فیس بک کا صارف ہونا بھی اور اس کمپنی کو بھارت سے حاصل ہونے والا بزنس بھی۔ اس کے علاوہ فیس بک کا دفتر بھارت میں بھی قائم ہے، جس کی وجہ سے بھارت کو فیس بک پر اثرانداز ہونے کی زیادہ سے زیادہ سہولت حاصل ہے۔

دوسری طرف دیکھیں تو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا اثر فیس بک اور مجموعی طور پر پورے سوشل میڈیا پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں فیس بک کا دفتر ہے نہ ہی گوگل کا، تاہم حکومتی سطح پر آئی ٹی کی وزارت فیس بک انتظامیہ سے رابطے میں ضرور ہوتی ہے۔ چناں چہ ہم فیس بک اور سوشل میڈیا پر بھارت کی سازشوں اور اس کے اثر کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مسلسل جاری رہتا ہے۔ ہمارے ہاں ہونے والے کسی چھوٹے سے واقعے کو بھی بھارت خوب اچھالتا ہے۔ بھارت کی یہ پراکسی وار، پاکستان کو بدنام اور کم زور کرنے کی سازش پوری منصوبہ بندی کے ساتھ جاری ہے۔ فیس بک کی یہ جانب دارانہ پالیسی ہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں کوئی پوسٹ کی جائے تو اس پیج کی رینج روک دی جاتی ہے۔

ہمیں اس پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ سوشل میڈیا جیسے اہم پلیٹ فارم پر ہم کس طرح پاکستان کی آواز بلند کرسکتے ہیں اور اسے بھارت کے اثرورسوخ سے باہر نکال سکتے ہیں۔ دورحاضر میں سوشل میڈیا کی اہمیت کا یہی تقاضا ہے کہ ہم اس کے استعمال اور اس پر دفاع اور جارحیت کے لیے پوری ذہانت کے ساتھ پالیسی وضع اور اس کے لیے وسائل مختص کریں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US