ویسے تو سوشل میڈیا پر فرعون اور ان کی ممی سے متعلق کئی خبریں موجود ہیں، لیکن کچھ ایسی ہیں جو کہ سب کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پولینڈ کے سائنسدانوں کی ٹیم نے ایک ایسی ممی پر تحقیق کی ہے جو کہ اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق تھی۔ 2015 میں نیشنل میوزیم میں رکھے گئے مختلف چیزوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جن میں ممی بھی شامل تھی۔
اس پراجیکٹ میں کئی ممیز کی جانچ کی گئی تھی، لیکن ایک ممی ایسی تھی جس نے سب کی توجہ بھی حاصل کی اور حیران بھی کیا۔
اس ممی پر تحقیق کرنے والوں کا خیال تھا کہ شاید یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جسے ممی بنا کر رکھا گیا تھا، یہ گمان اس لیے بھی کیا گیا تھا کیونکہ ممی کے سر پر ایک جوڑا تھا، اسی طرح قد بھی زیادہ بڑا نہیں تھا۔
لیکن اس وقت سب ہکے بکے رہ گئے جب اس ممی کو اسکین کیا گیا اور معلوم ہوا کہ یہ ایک عورت کی ممی ہے جو کہ حاملہ تھی۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہ ممی حمل کے آخری دنوں میں تھی۔
اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی خاتون کی ممی ہے جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔
چونکہ عورت کی ممی کے سر پر بال بھی موجود تھے جس سے یہ پتہ چلایا گیا کہ یہ ممی کی وفات نامعلوم وجہ سے تو ہوئی مگر اس وقت پیٹ میں موجود جنین کی عمر 20 سے 30 ہفتے تھی۔ ماں کے پیٹ کے اندر سے چار بنڈل نکلے جن میں خیال ہے کہ اعضا کو حنوط کر کے رکھا گیا تھا، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنین کو بچہ دانی سے نہیں ہٹایا گیا تھا۔
سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔
وارسا کے نیشنل میوزیم میں موجود اس خاتون ممی کو پراسرار خاتون کا نام دیا ہے، خاتون کی ممی تھیبیس کے عالیشان شاہی مقبرے سے ملی تھی، لیکن محققین کہتے ہیں کہ انیسویں صدی میں نوادرات کی قدر بڑھانے کے لیے انھیں مشہور مقامات سے جھوٹ موٹ منسوب کر دیا جاتا تھا۔