شادی بیاہ میں لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ خوبصورت ترین جوڑا پہنیں اور اس کے لئے وہ ڈیزائنر بوتیک کا رخ کرتے ہیں لیکن وہاں جاکر ان کپڑوں کی قیمت سن کر دل تھام لیتے ہیں۔ اپنے وی لاگ میں نادیہ خان نے اسی موضوع پر بات کی ہگ کہ ڈیزائنر کپڑے اتنے مہنگے کیوں ہوتے ہیں اور آخر وہی خوبصورت جوڑے ہم سستے کہاں سے خرید سکتے ہیں؟
ڈیزائنر کپڑے مہنگے کیوں ہوتے ہیں؟
نادیہ خان مشہور برانڈ "لاجونتی" کی ڈیزائنر سے ملیں اور ان سے پوچھا کہ آخر ان کے کپڑے اتنے مہنگے کیوں ہوتے ہیں جس پر ان کا جواب تھا کہ ڈیزائنر نئے ڈیزائن کا نفیس کپڑا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کپڑوں پر کیا جانے والا کام اور سلائی بھی کافی نازک ہوتی ہے جس کی وجہ سے جوڑے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ عام دکانوں میں پرانے ڈیزائن اور کام کے جوڑے ہوتے ہیں جن کی قیمتیں کم ہوتی ہیں۔
اشتہارات کا خرچہ بھی نکالنا ہوتا ہے
ڈیزائنر انا نے یہ بھی کہا کہ ان چیزوں کے علاوہ ڈیزائنر کو اپنے اشتہارات اور ماڈلز وغیرہ کا خرچہ بھی نکالنا ہوتا ہے اس وجہ سے بھی بوتیک کے کپڑے مہنگے ہوتے ہیں۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کسی ڈیزائنر کے اشتہارات کا خرچہ ہم اپنی جیب سے کیوں ادا کریں اور وہاں سے خریداری کیوں نہ کریں جہاں ہمیں ویسے ہی کپڑے سستے داموں میں مل سکتے ہیں؟ تو آئیے آپ کو لے چلتے ہیں
ڈیزائنرز بھی یہیں سے شاپنگ کرتے ہیں
نادیہ خان نے اپنے وی لاگ میں جس مارکیٹ کا دورہ کیا اس کا نام ہے “آشیانہ مارکیٹ“ جو کراچی میں فورم مال کے بالکل سامنے بنی ہوئی ہے۔ یہاں نا صرف میسوری اور را سلک کا خوبصورت اور سستا کپڑا ملتا ہے بلکہ ملائی لان کی سلی سلائی کرتیاں بھی صرف آٹھ سو میں مل رہی تھیں۔ نادیہ نے ہزار روپے کی ایک ان سلی کرتی خریدی جو بہت خوبصورت تھی۔ دکان دار کے مطابق یہی کرتی کسی مال سے بہت مہنگی ملے گی اور جو ڈیزائنر اور بوتیک والے مہنگے داموں کپڑے بیچتے ہیں وہ یہیں سے سستا کپڑا خرید کر لے جاتے ہیں۔
مختلف ورائٹی
آشیانہ مارکیٹ میں شادی سے لے کر گھر میں پہننے والے ہر طرح کے کپڑوں کی ورائٹی موجود ہے اس کے علاوہ حیرت انگیز طور پر یہاں اسٹریچ ایبل یعنی کھنچنے والا کپڑا بھی سستے داموں میں ملتا ہے جس کے بازار میں ٹائٹس وغیرہ ملتے ہیں۔ یہ کپڑا خرید کر آپ اسٹریٹ پینٹس یا کوئی بھی چیز بنوا سکتے ہیں اور اس کے گھٹنوں سے پھٹنے کا ڈر بھی نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ آشیانہ مارکیٹ میں جیولری کی بھی کافی دکانیں موجود ہیں۔