موجودہ دور میں لوگ بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں اور یہ چیز جسمانی و ذہنی طور پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ذہنی تناؤ یا ڈپریشن بہت زیادہ عام ہوچکا ہے۔ یہاں تک کہ بچے بھی تعلیمی مصروفیات کے نتیجے میں چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور اس کا حد سے بڑھ جانا انسانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے کیونکہ متعدد ذہنی و جسمانی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔تاہم آپ کی غذا اس تناؤ کو کم یا ختم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔اسی حوالے سے پچھلے دنوں ایک بچے کا واقعہ سننے میں آیا کہ جس میں امتحانات کے حوالے سے بچے پر اچھے گریڈز لانے کے لئے گھر والوں کی طرف سے اتنا پریشر،اتنا دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بچہ عین امتحان والے دن امتحانی مرکز میں جا کر بے ہوش ہو گیا ،اور ہوش میں آنے پر توڑ پھوڑ کرنے لگا ،گھر والوں کو پہچاننے سے انکار کر دیا، ڈاکٹر کے پاس لے جانے پر پتہ چلا کہ وہ بچہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے ڈپریشن میں چلا گیا ہے اور اب اس کوماہر نفسیات سے علاج کی ضرورت ہے،بہرحال ماہر نفسیات سے تا حال اس کا علاج جاری ہے لیکن وہ اس وقت تک ٹھیک رہتا ہے جب تک اس کی دوائیں چلتی ہیں ،دواؤں میں ناغہ اس کی وہی کیفیت دوبارہ لے آتا ہے۔ ہم یہاں یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ایسی کیفیت میں کسی بھی مریض کی دوائیں چھوڑ دی جائیں اور غذا سے کام چلایا جائے لیکن کچھ ایسی غذاؤں کے بارے میں ضرور بتا رہے ہیں جو اس کیفیت کو کم کر سکتی ہیں یا اگر شروع سے استعمال کی جائیں تو ڈپریشن سے دور رہا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی سپرفوڈ کے بارے میں جاننے کے لئے ہمارا یہ آرٹیکل پورا پڑھیے۔<
جو کا دلیہ
اگرآپ دلیے کے شوقین ہیں تو ممکن ہے کہ آپ کو کبھی ذہنی تناؤ کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے، ایک امریکی تحقیق کے مطابق دلیے میں شامل کاربوہائیڈریٹس سے دماغ میں ایک کیمیکل سیروٹونین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کہ ڈپریشن سے نجات کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کی طرح ہی اثر کرتا ہے جبکہ دلیہ سے خون میں گلوکوز اورذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔
دہی
انسانی معدے میں پائے جانے والے بیکٹریا تناؤ کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق معدے تک دماغی سگنل جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تناؤ کے باعث ہاضمے کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ، تاہم دہی میں موجود صحت بخش بیکٹریا دماغ کے ان حصوں کی سرگرمیاں کم کردیتے ہیں جو کہ جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں جس سے ذہنی تناؤ بھی کم ہوجاتا ہے۔
سبز پتوں والی سبزیاں
جب انسان ذہنی تناؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس موقع پر سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک کا استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ دماغ میں خوشی کا احساس پیدا کرنے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار بڑھاتا ہے جو آپ کو پرسکون کردیتا ہے۔ اوٹاگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق زیادہ پھل اور سبزیاں کھانے والے افراد زیادہ پرسکون، خوش اور توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں۔
دودھ
دودھ وٹامن ڈی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ ہمارے اندر خوشی کے احساس کو بڑھانے کے لیے بہتر جز ہے،ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن کا شکار ہونے کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جسم میں وٹامن ڈی کی مناسب مقدار دہشت اور تناؤ کے خطرے کو کم کردیتا ہے، دودھ کے ساتھ ساتھ مچھلی، انڈے کی زردی وغیرہ بھی اس مقصد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
کاجو
کاجو میں پائے جانے والا زنک ذہنی خوف یا فکر کی سطح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق کاجو کے استعمال سے ذہنی تشویش کی سطح میں 31 فیصد تک کمی آجاتی ہے کیونکہ اس میں شامل زنک ایک ایسے اعصابی کیمیکل پر اثرانداز ہوتا ہے جو کہ انسانی مزاج پر اثرانداز ہوتا ہے۔ کاجو میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور پروٹین بھی شامل ہوتے ہیں جو تناؤ کو کم کرکے جسم کو دیگر طبی فوائد بھی پہنچاتے ہیں۔۰