پوری دنیا میں جہاں دیگر صنعتیں جیسے آئل، مشینری، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ گذشتہ چند دہائیوں سے عالمی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہیں وہیں گزشتہ کئی سالوں کے دوران پراپرٹی کی خرید و فروخت اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر سے وابستہ شعبے ریئل اسٹیٹ نے بھی معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے دنیا میں اپنا ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
اکیسویں صدی کے آغاز سے قبل ترقی پذیر ممالک میں پراپراٹی یا اراضی کی خرید و فروخت کے حوالے سے چند نمایاں نام زباں زدِ عام تھے تاہم موجودہ صدی کے آغاز کے بعد سے اب تک اس مخصوص شعبے نے غیر یقینی حد تک تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔
اس امر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت پاکستان بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں رہائشی منصوبے اور کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے لیکن کاروباری ڈیل میں شفافیت، فراڈ سے بچنے اور محفوظ سرمایہ کاری کے حوالے سے آج بھی سرمایہ کار اور صارف مختلف قسم کے تحفظات اور عدم اعتمادی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں گرانہ ڈاٹ کام کا کردار کلیدی ہے جس نے ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کو صاف، شفاف اور محفوظ بنانے کیلئے ایک فریم ورک بنا لیا ہے تاہم مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ترقی کے کئی منازل کا عبور ابھی باقی ہے۔
حکومتِ وقت کے تعمیراتی شعبے کیلئے لیے گئے اقدامات
بلاشبہ حالیہ دورِ حکمرانی میں حکومت نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور تعمیراتی صنعت سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے بہت سی پُرکشش سہولیات اور مذکورہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے خصوصی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اہم فیصلے کیے ہیں تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ابھی بھی اراضی کی خرید و فروخت اور تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے اداروں کی سہولت کے لیے بہت سارا کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ملک میں کئی صنعتوں بشمول بجلی، ڈیموں کی تعمیر، علمی سرگرمیوں، کاروباری لین دین، درآمدات اور برآمدات کے حکومتی اداروں سمیت کئی دیگر شعبوں کی ترویج، نگرانی اور ترقی کے اعشاریے طے کرنے کے حوالے سے ادارے موجود ہیں تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے اراضی کی خرید و فروخت، ہاؤسنگ سوسائٹیز کے منصوبوں اور دیگر متعلقہ کاروباری سرگرمیوں کو ایک نئی شناخت اور اؤنرشپ دینے کے حوالے سے کوئی بھی اتھارٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا۔
ڈیجیٹل میپنگ کی مدد سے سرمایہ کاری کا یقینی تحفظ
پراپرٹی سمیت اراضی کی خرید و فروخت اور رہائشی سہولیات کی دستیابی سے وابستہ کاروباری شعبے ریئل اسٹیٹ میں لاکھوں کی تعداد میں گھروں کی تعمیر اور پلاٹس کی خرید و فروخت پر مبنی کاروباری سرگرمیاں ملک بھر میں جاری ہیں تاہم آج بھی سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اعتماد کے فقدان کے باعث جلد اپنا سرمایہ اس مخصوص شعبے میں لگانے سے گھبراتے ہیں جو کسی حد تک درست بھی ہے۔ ہر سرمایہ کار اپنی رقم کا تحفظ چاہتا ہے اور اس حوالے سے نجی شعبے میں آپ کو بہت کم لوگ ایسے نظر آئیں گے جو سنجیدگی کے ساتھ عوامی سرمایہ کو محفوظ بنانے سے متعلق کام کر رہے ہوں۔ پاکستان میں امارات گروپ ایک ایسا نام ہے جو اس مخصوص شعبے میں عوامی سرمایہ کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ایک علیحدہ پہچان رکھتا ہے۔
پراپشور اور اربن پاکستان کا ڈیجیٹل ڈیٹا
امارات گروپ کے ذیلی ادارے پراپشور نے حال ہی میں ڈیجیٹل میپنگ کی دنیا میں ایک انقلاب بپا کیا ہے۔ پراپشور نے ماہرین پر مشتمل انسانی وسائل کی مدد سے پورے پاکستان کے شہری علاقوں میں دستیاب اراضی کی مکمل تفصیلات اکھٹی کر کے انہیں ڈیجیٹائز کیا ہے تاکہ صرف ایک کلِک کی مدد سے کسی بھی پراپرٹی کی درست تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ پراپشور کے اس اقدام کا بنیادی مقصد سرمایہ کار کے پیسے کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ پراپرٹی کی خرید و فروخت میں کسی بھی قسم کے فراڈ اور غیر شفافیت کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
سرمایہ کار کی آسانی کے لیے ایک چھت تلے تمام تر سہولیات کی فراہمی
کسی بھی سرمایہ کار کے لیے پراپرٹی کی تصدیق ہو یا پھر کسی تعمیراتی منصوبے سے جڑے مختلف نوعیت کے اجازت نامےکا حصول، بلاشبہ ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس کیلئے یہاں روایتی طور پر مہینوں پر محیط عرصہ درکار ہوتا ہے جو سرمایہ کار کی حوصلہ شکنی کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔
مثال کے طور پر کسی بھی پراپرٹی کی تصدیق کے لیے پہلے پٹواری، پھر رجسٹری برانچ اور محکمہ مال سے ریکارڈ کے حصول کے لیے چکر لگا لگا کر ایک عام آدمی کےجوتے گھِس جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ سرمایہ کار اور پراپرٹی کی خرید و فروخت سے وابستہ صارفین کی آسانی کے لیے ایک چھت تلے تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ وقت کے ضیاع سے بچتے ہوئے تمام دستاویزی امُور باآسانی سرانجام دیے جا سکیں۔
کوئی بھی رہائشی یا پھر کثیرالمنزلہ تعمیراتی منصوبہ ہو، تعمیر کے عمل کے آغاز پر سرمایہ کار کو مختلف سرکاری محکموں سے 14 کے قریب اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح کسی بھی منصوبے کی تعمیر سے قبل اس منصوبے کے نقشے کی منظوری ایک اہم ترین دستاویز ہے جس کے بغیر آپ تعمیراتی کام شروع نہیں کر سکتے۔ کوئی بھی سرمایہ کار اربوں روپے کے ان منصوبوں میں اسی وقت دلچسپی کا اظہار کر سکتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ ایک ہی دفتر کے مختلف کاونٹرز پر آپ کو تمام تر سہولیات دستیاب ہیں۔
ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں اسٹیک ہولڈرز کا حکومت پر اعتماد کا فقدان
اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دور میں حکومت نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر خصوصی توجہ دی ہے لیکن دوسری جانب کچھ سرکاری اداروں جیسے فیڈرل بورڈ آف ریونیو یا منی لانڈرنگ کو کنٹرول کرنے کے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پیسے کی ترسیل اور پراپرٹی کی خرید و فروخت میں رقوم کے تبادلے کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی گئی ہے اس حوالے سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے نہ تو مشاورت کی گئی اور نہ ہی انہیں اعتماد میں لیا گیا۔
نقصان یہ ہوا کہ ملک میں ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں ایک غیر مستحکم کاروباری سرگرمیوں کی فضا قائم ہو گئی اور سرمایہ کاروں نے مختلف منصوبوں میں پیسے لگانے سے اپنا ہاتھ روک لیا۔
تعمیراتی شعبے پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت اور سرکاری ادارے جس قدر ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور پراپرٹی کی خرید و فروخت سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے اتنا ہی زیادہ ملک میں نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ ملک میں معیشت کا پہیہ بھی مستحکم انداز میں چلتا رہے گا۔