ہمارے 4 بچے پیدا ہوئے جن
میں سے 3 پیدا ہوتے ہی انتقال کرگئے اور ایک 6 ماہ کا ہونے کے بعد اللہ کو پیارا ہوگیا۔ ایک بچے کو پیدائشی طور پر دل میں سوراخ بھی تھا"
یہ کہنا ہے ارم کا جو اپنی سونی گود کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہیں۔ ارم ماں تو بنتی ہیں لیکن ہر بار 9 مہینے کے انتظار اور زچگی کی تکالیف جھیلنے کے بعد بھی ان کی گود اجڑ جاتی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ارم کی اس محرومی کی وجہ ان کے خاندان میں ہونے والی نسل در نسل کزن میریجز ہیں۔ ارم کے شوہر ان کے ماموں کے بیٹے ہیں۔ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ارم اور ان کے شوہر اب اولاد کی خواہش سے دستبردار ہوچکے ہیں کیونکہ وہ بار بار اپنی اولاد کو موت کے منہ میں جاتا نہیں دیکھنا چاہتے۔
ایک خاموش عالمی وبا
کزنمیریج کی وجہ سے بچوں کی اموات کا سامنا کرنے والی ارم اکیلی خاتون نہیں بلکہ ڈان نیوز کے مطابق پاکستان اور جرمن ماہرین کی تحقیق نے پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی 50٪ اموات کا ذمہ دار کزن میریج کو ہی قرار دیا ہے اور اسے ایک “خاموش عالمی وباء“ سے تشبیہ دی ہے۔
کزن میریجز سے بچوں میں ہونے والی بیماریاں
لاہور میں بچوں کے امراض کی ماہر ڈاکٹر ہما ارشد کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 30 ہزار جوڑوں کے ٹیسٹ کیے گئے جو 70٪ سے زائد بیماریوں کا سبب بنے ہیں۔ ڈاکٹر ہما نے مزید بتایا کہ کزن میریجز کے بعد پیدا ہونے والے بچوں میں معذوری کے علاوہ دل، جگر، دماغ اور گردے کی بیماریاں ہوسکتی ہیں اور پاکستان میں اس حوالے سے ٹیسٹنگ کافی مہنگی ہے اس لیے لوگوں کو خاندان میں شادی کرنے سے پہلے ایک بار اس حوالے سے بھی غور کرلینا چاہیے۔