سوشل میڈیا پر ایسے کئی مقامات موجود ہیں جو کہ اپنے تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بناوٹ کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ایک ایسا ہی تاریخی مذہبی مقام ہے مسجد الاقصیٰ۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
قبلہ اول کے طور پر جانی جانے والی مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کے لیے اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جیسے کہ انسان کو جینے کے لیے آکسیجن درکار ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ وہ مسجد ہے جہاں سے آقائے دو جہاں نے معراج کے لیے سفر کیا تھا۔
مسجد الاقصیٰ کے حوالے سے کئی منفرد اور دلچسپ معلومات موجود ہیں جو کہ سب کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں، جس طرح یہودی اس مقدس مقام کو اپنے لیے اہم سمجھتے ہیں، اسی لیے مسلمان بھی اسے اپنے دل کے قریب سمجھتے ہیں۔
اسی طرح مسجد الاقصٰی سے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کا اہم حصہ جنات نے تعمیر کیا تھا۔ مسجد الاقصٰی کے مین داخلے پر ہی ایک راستہ انڈر گراؤنڈ کی طرف جاتا ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مقام قدیم ہے۔
میم پروڈکشن کی اس ویڈیو میں مسجد کے اندورنی اور قدیم حصے کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔ اندرونی حصے کے درودیوار بھی اپنے قدیم ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ دوسری جانب رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بھی اسی حصے میں ہوتا ہے جو کہ قدیم ہے۔
مسجد الاقصٰی کی بیسمنٹ بھی اپنی نوعیت کی منفرد اور دلچسپ ہے۔ اس بیسمنٹ میں موجود ستونوں کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ ستون حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات سے تعمیر کرائے تھے۔ ان ستونوں کی اونچائی اور چوڑائی دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی تعمیر آسان نہیں۔ لیکن موجودہ دور میں ان ستونوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اب یہ ستون کچھ حد تک ماڈرن معلوم ہوتے ہیں۔
اس مسجد کی خاص بات یہ بھی ہے کہ بیسمنٹ میں دیوہیکل پتھروں کی مدد سے ایک لائبریری بھی موجود ہے، جہاں ایک اندازے کے مطابق 1 لاکھ سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ ان بڑے اور تاریخی پتھر نما ستونوں کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے مزید ستون بھی بنائے گئے ہیں تاکہ ان تاریخی ستونوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
جبکہ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ بیسمنٹ میں ایک محراب واقع ہے جس کے بارے میں دو روایتیں موجود ہیں۔ پہلی روایت کے مطابق یہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام عبادت کیا کرتے تھے، جبکہ دوسری روایت کے مطابق معراج کی رات آقائے دو جہاں نے نبیوں کی امامت فرمائی تھی۔
اسی ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا کہ بیسمنٹ میں ایک کنواں بنایا گیا تھا جس میں زیتون کا تیل جمع کیا جاتا تھا، یہ اس وقت کی بات ہے جب مسجد الاقصٰی میں زیتون کے تیل کے چراغ جلا کرتے تھے۔ جب کبھی لوگ مسجد آتے تو اپنے ساتھ زیتون کا تیل لاتے اور یہاں دے جاتے، جو کہ مسجد کے چراغوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔