ایک مچھر نے کیسے ان کی جان لے لی؟ مصر کا وہ طاقتور فرعون جس کے چہرے پر اب بھی موت کے تاثرات نظر آ رہے ہیں، دیکھیے

image

مصر کے فرعون کا شمار ان چند قدیم زمانوں کی شخصیات میں ہوتا ہے جنہیں آج دنیا میں علامت اور خوف کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

مصر پر 10 سال کے عرصے تک حکمرانی کرنے والا یہ 19 سالہ فرعون اپنے حیرت انگیز اور خوفناک انداز کی بدولت جانا جاتا تھا۔

طوطن خامن نامی یہ مشہور فرعون اس لیے بھی مشہور تھا کہ اس غصہ ساتویں آسمان ک چھو جاتا تھا، جبکہ اپنے وقت کا سب سے خطرناک اور طاقتور ترین بادشاہ تصور کیا جاتا تھا۔

طوطن خامن نے اپنے والد اخیناتن کے مذہبی قوانین میں اصلاحات کی تھیں جس کی وجہ سے وہ مزید مشہور ہو گیا تھا۔ طوطن کے والد اخیناتن نے صرف ایک خدا یعنی آگ کی پرستش کرنے اور دارالحکومت کو تھیبس سے امرنا منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ متنازع شخصیت بن گیا تھا۔

لیکن بیٹے طوطن خامن نے مذہبی اصلاحات کچھ اس طرح کی تھیں کہ والد کے تمام احکامات کو معطل کر کے پرانے والے طور طریقے بحال کر دیے تھے جس کہ وجہ سے فرعون کو اچھا سمجھا جانے لگا تھا۔

حال ہی میں طوطن خامن کی ممی کو عام عوام کے سامنے لایا گیا تھا، جسے دیکھ کر لوگ مزید خوفزدہ ضرور ہو گئے۔ سیاہ چہرہ، چہرے کے تاثرات جیسے کہ سوچتے سوچتے ہی موت واقع ہو گئی ہو، جسم کے دیگر حصہ بھی سیاہ ہو چکے تھے۔

یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے کہ فرعون کے حوالے سے جو اسلام میں کہا جاتا ہے کہ انہیں آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنایا گیا ہے، ہو بہو اسی کا عکس معلوم ہو رہا تھا۔

ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ 19 سالہ طوطن خامن جوانی میں موت سے ہمکنار ہو گیا تھا۔

1995 میں کیے جانے والے سی ٹی اسکین میں شواہد ملے تھے کہ طوطن خامن کی موت ملیریا سے ہوئی، سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ڈی این اے میں ملیریا کے انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے، جو کہ عین ممکن ہے طوطن خامن کی موت کی وجہ بنی ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US