پی آئی آے کے جنرل مینیجر آف فلائٹ سروسز عامر بشیر کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق طبی وجوہات کی وجہ سے یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔سیفٹی بلیٹن میں درج وجوہات میں کہا گیا ہے کہ روزے کی حالت میں انسان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے،سیفٹی بلیٹن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو روزے نہ چھوڑنا چاہے وہ چھٹیوں پر جا سکتا ہے۔اس اعلامیے میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ مخصوص انسانی مسائل جیسے خوراک اور پرواز کی کارکردگی سے اس کے تعلق پر توجہ مرکوز کرنے سے پائلٹ کی غلطیوں اور حادثات کی شرح کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔کیونکہ پرواز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مناسب غذائیت ضروری ہے۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روزے رکھنے کی وجہ سے تھکاوٹ ہوسکتی ہے اور کارکردگی میں کمی آ سکتی ہے جوکہ مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

خدمات فراہم کرنے والوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے متفرق ایس او پیز تیار کریں ، جس سے معلوم ہوسکے کہ فلائٹ کا عملہ واقعی روزہ نہیں رکھ رہا ہے۔صرف یہ نہیں بلکہ ائیر لائن نے ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں عملے کا لائسنس معطل اور منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ عملے کے کچھ ارکان کے مطابق وہ کئی سالوں سے دورانِ پرواز روزے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں اور ان کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔