اب سے کچھ دیر قبل گمشدہ ہونے والی بچی دعا زہرہ لاہور سے مل گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس کی بھاری نفری دعا زہرہ کے گھر پہنچ گئی ہے۔
دعا زہرہ کے والدین کا بھی بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اس حوالے سے پولیس نے ان سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا اس وقت دعا زہرہ کے گھر میں موجود ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا کا بیان
پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا کا دعا کے نکاح سے متعلق کہنا تھا کہ 18 سال سے کم عمر بچے کا نکاح سندھ کے قانون کے مطابق غیر قانونی ہے۔ اس کا ب فارم دیکھا، لڑکی 13 سے 14 سال کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک سندھ پولیس خود نکاح نامہ نہیں دیکھے گی تصدیق نہیں کرسکتے۔ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی بھی پولیس کے ساتھ کام کررہی ہے۔ جب تک لڑکی کا ویڈیو کلپ نہیں آتا سندھ پولیس باقاعدہ اعلان نہیں کرے گی۔
دعا کے والد کا بیان
پھر کچھ دیر بعد دعا کے والد کا بھی بیان سامنے آیا جس میں انہوں یہ بات ماننے سے صاف انکار کردیا کہ یہ شادی نہیں ہوئی، تصدیق نہیں کرسکتا۔
ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد خان کے دعا کے ملنے کی تردید
پھر ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد خان کا دعا اغواء کیس میں بیان سامنے آیا کہ دُعا زہرہ کے پولیس کو ملنے کی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔، دعا زہرہ کی بازیابی کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔
پھر دوسری جانب دعا کے والد کا بیان بھی سامنے آیا۔ انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا ایڈیشنل آئی جی نے دعا کے ملنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
بلکہ انہوں نے خود مجھ سے اس حوالے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔
دعا کے والد نے بتایا کہ ب فارم کے مطابق دعا زہرا کی عمر 14 برس ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیٹی کے لاہور سے ملنے کی معلومات پر بھروسہ نہیں، سانگھڑ سے ملنے والی بچی کو بھی دعا بتایا گیا تا، نکاح نامے میں بیٹی کی عمر 18 سال لکھی ہے۔
دعا زہرہ کا ویڈیو پیغام
"میرے گھر والے زبردستی میری شادی کہیں اور کروانا چاہتے تھے۔ مجھے مارتے تھے جس پر میں راضی نہیں ہوں"
یہ الفاظ ہیں دعا زہرہ کے جن کے لاپتہ ہونے کی خبر نے گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
میڈیا کو موصول ہونے والی ویڈیو میں دعا کہتی ہیں "میری عمر 18 سال ہے اور میں نے اپنی مرضی اور پسند سے شادی کی ہے خدارا مجھے تنگ نہ کیا جائے۔ گھر والے عمر غلط بتا رہے ہیں میں بالغ ہوں میری عمر 14 سال نہیں 18 سال ہے۔ مجھے کسی نے اغواء کیا ہے نہ ہی کوئی زور زبردستی ہوئی ہے۔ میرا نکاح 17 اپریل کو ہوا اور گھر سے کوئی قیمتی سامان لے کر نہیں گئی۔ میرے شوہر کا نام ظہیر احمد ہے اور اب میں اپنے گھر میں ہوں۔"
دیکھیئے دعا زہرہ کا ویڈیو بیان۔
دعا زہرہ کی اپنے والد کے خلاف عدالت میں درخواست دائر
دعا نے اپنے والد مہدی کاظمی کے خلاف لاہور سیشن کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔
والد اور کزن نے ڈرایا دھمکایا
دعا کا کہنا ہے کہ ان کے والد شادی کے بعد ان کے لاہور والے گھر میں دعا کے کزن زین العابدین کے ساتھ زبردستی گھسے اور انھیں ڈرایا دھمکایا اور اغواء کرنے کی کوشش کی جس کے بعد محلے والوں نے انھیں والد اور کزن سے بچایا۔ دعا کا کہنا ہے کہ ان کے والد مہدی کاظمی زبردستی ان کی شادی ان کے کزن سے کروانا چاہتے تھے اور وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے عدالت ان کے والد اور کزن سے انھیں ہراساں کرنے سے روکے۔
خیال رہے دعا زہرہ 11 روز قبل کراچی کے علاقے گولڈن ٹاؤن سے لاپتہ ہوئی تھی۔