آزاد کشمیر کے علاقے بالاکوٹ میں 2005 کے تباہ کن زلزلے کے دوران لاپتا ہونے والے پانچ سالہ بچے کی لاش 21 سال بعد گھر کی کھدائی کے دوران برآمد ہوگئی۔ اس واقعے نے اہلِ خانہ سمیت علاقے کے لوگوں کو جذباتی کردیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے میں مکان گرنے سے پانچ سالہ جمال شفیق ملبے تلے دب گیا تھا۔ اس وقت خاندان نے بچے کو ڈھونڈنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن کئی روز کی تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ آخرکار اہلِ خانہ نے اسے جاں بحق تصور کرتے ہوئے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کردی تھی، تاہم والدین کے دل میں برسوں تک اپنے بیٹے کی آخری نشانی نہ ملنے کا دکھ موجود رہا۔
حالیہ دنوں مکان کی دوبارہ تعمیر کے لیے کھدائی کی جا رہی تھی کہ ملبے میں بچے کے کپڑے دکھائی دیے۔ مزید کھدائی کرنے پر جمال شفیق کی لاش برآمد ہوئی، جس کے بعد اسے احترام کے ساتھ نکالا گیا، تجہیز و تکفین کی گئی، نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور قریبی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
بچے کے والد کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ بے یقینی اور غم میں گزرا، لیکن اپنے بیٹے کی لاش ملنے کے بعد دل کو ایک طرح کا سکون ملا۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ دکھ کبھی ختم نہیں ہو سکتا، مگر اب انہیں اطمینان ہے کہ ان کے بیٹے کی باقاعدہ تدفین ہوگئی ہے۔