جناح اسپتال میں رات دن مریضوں کی خدمت کرنے والے اور حال ہی میں سرکاری میڈیکل آفیسر منتخب ہونے والے ایک انتہائی محنتی اور قابلِ فخر نوجوان، ڈاکٹر آکاش ولد سری چند ڈکیتی کی ایک دلخراش واردات کے دوران بے رحمی سے چھین لیے گئے۔
جناح اسپتال سے اپنی ہاؤس جاب مکمل کر کے ابھی انہوں نے اپنے خوابوں کو تعبیر دینا شروع ہی کیا تھا کہ شہر کے بے رحم حالات نے ان کا سفرِ زندگی ہمیشہ کے لیے روک دیا۔
اس المناک واقعے اور ایک مسیحا کے یوں سرِعام قتل پر پورٹل اور اسپتالوں کی فضا سوگوار ہے اور میڈیکل کمیونٹی کے ساتھ ساتھ عام شہریوں میں گہرے رنج و غم اور شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اپنے پیارے ساتھی کو یوں اچانک کھو دینے پر ڈاکٹرز برادری شدید احتجاج کررہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دوسروں کی جانیں بچانے والے مسیحا خود ہی یہاں غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔