اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں قائم ایک نجی بحالی مرکز (مائنڈ ریہیب سینٹر) میں مبینہ تشدد کے نتیجے میں ایک نوجوان کی ہلاکت کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد مقتول کے والد نے مقدمہ درج کرنے کے لیے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درخواست جمع کرادی۔
درخواست میں مقتول کے والد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان کو رواں سال جون میں بحالی مرکز میں داخل کرایا گیا تھا، تاہم ایک ماہ تک انہیں اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
والد کے مطابق 9 جولائی کو بحالی مرکز کی انتظامیہ نے اطلاع دی کہ ان کے بیٹے کو ڈینگی بخار ہوگیا ہے، لیکن جب وہ مرکز پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا جاں بحق ہوچکا ہے۔
واقعے کے بعد بحالی مرکز کا عملہ مبینہ طور پر مرکز بند کرکے فرار ہو گیا، جبکہ مرکز کے مالک ڈاکٹر حمزہ بھی منظر عام سے غائب بتائے جا رہے ہیں۔
پولیس نے بتایا ہے کہ مقتول کے والد کی درخواست موصول ہوگئی ہے اور معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔