"یہ شیرمال بہت مزیدار ہوتا ہے ہم سارا سال اس کو کھانے کے لئے رمضان کا انتظار کرتے ہیں۔ شیرمال میں میوہ جات بھی موجود ہوتے ہیں اس لیے یہ خاص طور پر بچوں کی صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے"
یہ کہنا ہے بھارتی ہندو شہری ورشہ سونی کا۔ ورشہ بھارت کی ریاست راجستھان کے گلابی شہر ادے پور سے تعلق رکھتی ہیں جہاں رمضان میں خاص طور پر بننے والا حلیم اور شیرمال بہت زیادہ مشہور ہے۔
شیرمال بنانے والے سمیر کا کہنا ہے کہ وہ یہ شیرمال صرف رمضان میں ہی بناتے ہیں۔ لوگ اسے سحری میں کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ شیرمال کو دودھ، میدے، اصلی گھی اور میوہ ڈال کر تیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ذائقہ بھی لاجواب ہوتا ہے اور غذائیت بھی بھرپور ہوتی ہے۔ چونکہ شیرمال میں گوشت نہیں ہوتا اس لئے ہندو بھی اسے شوق سے کھاتے ہیں۔
ادے پور کے علاقے رام گنج میں بننے والا حلیم بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ گاڑھا اور مزیدار حلیم بکری کے گوشت سے تیار کیا جاتا ہے جس کی خوشبو شام سے ہی پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے
ایک ہندو شہری کا کہنا ہے کہ "رمضان عبادت کا اتنا پاک اور مبارک مہینہ ہے کہ ہم ہندوؤں کی بہو بیٹیاں بھی انتظار کرتی ہیں کہ کب رمضان آئے گا اور کب ہم یہ حلیم کھائیں گے"