السلام علیک یا سیدنا بلال الحبشی ۔۔ حضرت بلال حبشی کی قبر مبارک کے کتبے پر کیا لکھا ہے، حضرت بلال حبشی کے کا مزار کہاں ہے اور ساتھ کن کی قبریں موجود ہیں؟

image

ویسے تو سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں جن میں کچھ ایسی معلومات موجود ہوتی ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو حضرت بلال حبشی سے متعلق بتائیں گے۔

حضرت بلال حبشی کا نام سنتے ہی جو پہلی چیز ذہن میں آتی ہے وہ اذان اور مؤذن ہے۔ حضرت بلال حبشی اسلام کے پہلے موذن اور آقائے دو جہاں ﷺ کے ان قریبی صحابیوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں آقائے دو جہاں ﷺ نے جنت میں حضرت بلال کے قدموں کی آہٹ سے متعلق بتایا۔

ایک اور اہم پوائنٹ یہ بھی ہے کہ آج دنیا میں سیاہ فام اور کالی رنگت والوں کو نچلے طبقے کا سمجھا جاتا ہے، اور حضرت بلال بھی حبشی تھے، لیکن جو مقام اسلام میں انہیں حاصل ہوا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک غلام سے اسلام کا پہلا مؤذن بن جانا اور پھر عاشق رسول، عام بات نہیں تھی۔

حضرت بلال حبشی کی قبر مبارک ملک شام میں واقع ہے، جہاں کئی امہات المؤمنین کے روضہ مبارک بھی موجود ہیں۔

حضرت بلال کی قبر مبارک جس مقام پر ہے وہیں چند دیگر چھوٹی اور بڑی قبریں بھی موجود ہیں۔ جس جگہ حضرت بلال حبشی کی قبر مبارک موجود ہے یہاں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں اہل بیت اور اصحاب کرام کی قبریں بھی موجود ہیں۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ تختی لگی قبریں صرف ایشیاء اور بالخصوص پاکستان، بھارت میں ہی ہو سکتی ہیں، اورعرب ممالک میں کچی قبریں ہوتی ہیں۔

لیکن دمشق شہر جو کہ اپنے اندر تاریخ رکھتا ہے، جہاں حضرت بلال کی قبر مبارک موجود ہے یہاں اصحاب کرام اور اہل بیت کی قبروں کے ساتھ ایسی ہستیوں کی قبریں بھی موجود ہیں جنہوں نے اس دور میں یا اس دور کے آس پاس آنکھ کھولی، ان کی قبریں یوں معلوم ہوتی ہیں جیسے کہ پاکستانی قبریں ہوں، بڑی بڑی تختی، اور قبر کا انداز بھی بالکل ایسا ہی۔

بہر حال حضرت بلال حبشی کے روضہ اقدس میں صرف حضرت بلال ہی کی نہیں بلکہ دیگر قبریں بھی موجود ہیں۔ حضرت بلال کی قبر مبارک پر ہرے رنگ کا کپڑا موجود ہے، جبکہ ان کی قبر پر ایک تختی بھی موجود ہے، جس پر عربی میں سلام لکھا گیا ہے۔

جب مسلمان اسلام کے پہلے مؤذن کے روضہ پر حاضری دینے آتے ہیں، تو عقیدت اور احترام کے ساتھ سلام پیش کرتے ہیں، اس سلام میں آقائے دو جہاں کا بھی ذکر موجود ہے۔ تصویری مناظر خان ٹی وی 110 سے لیے گئے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US