ساتویں آسمان پر موجود بیری کا درخت دراصل کیا ہے؟ کائنات کا وہ خوفناک حصہ، جس کے بارے میں آپ بھی جاننا چاہیں گے

image

دنیا میں ایسے کئی راز ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

خلاء میں ایسے کئی مقامات موجود ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، کچھ اس قسم کے ہیں جن کی اہمیت اور معلومات سے اکثر عام لوگ ناواقف ہوتے ہیں۔

زمین پر رہنے والے جب کبھی آسمان کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سنسان جگہ یا کائنات کے اس حصے میں بھی کچھ ہے، کچھ ایسا ہے جو آج بھی چھپا ہوا ہے۔

خلاء میں موجود ستارے جب ٹوٹ جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں تو ان ستاروں کی باقیات سے ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جسے بلیک ہول کا نام دیا جاتا ہے۔ کشش ثقل کی قوت بلیک ہول میں اس حد تک ہوتی ہے کہ کسی بھی چیز کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔

جبکہ اسی کشش کی وجہ سے روشنی بھی بلیک ہول کی جانب بڑھتی ہے، خلاء میں ویسے تو اندھیرا ہوتا ہے، مگر بلیک ہول اور اس کے آس پاس ہونے والا اندھیرا اس حد تک خوفناک اور دہشت زدہ ہوتا ہے کہ بیان کرنا قاصر ہوتا ہے۔

بلیک ہول سے متعلق ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس کے دوسری طرف ایک نئی کائنات موجود ہے، یعنی اس دنیا سے دوسری دنیا تک جانے کا یہ شارٹ کٹ ہے، لیکن اس شارٹ کٹ کو عبور کرنا بھی آسان نہیں اور نہ کوئی کر پایا ہے۔

افسانوی باتوں اور مشاہدوں کی بنیاد پر تو کئی باتیں کی جا سکتی ہیں، لیکن کہا جاتا ہے کہ اس بلیک ہول کی بناوٹ بیری کے درخت جیسی ہے، بیری کا درخت اوپر کی جانب سے چوڑا ہوتا ہے اور پھر درخت کے تنے کی طرح چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔

اسی طرح اس بلیک ہول کے گہرے رنگ کو بھی بیری کے درخت سے تشبیہہ دی جاتی ہے، جس طرح بیری کے درخت کے آس پاس اور خود درخت میں اندھیرا موجود ہوتا ہے، بالکل ایسی ہی مماثلت رکھتی صورتحال بلیک ہول کی ہوتی ہے۔

اس بیری کے درخت کے حوالے سے سورہ نجم کی آیت نمبر 16 میں بھی بتایا گیا ہے، چونکہ سورہ نجم ستاروں سے متعلق ہے، اسی لیے بیری کے درخت کی مثال بھی یہاں موجود ہے۔

سائنس بھی بلیک ہول کی بناوٹ کے حوالے سے بتاتی ہے کہ یہ شیپ فلاسک نما ہے یعنی اوپر سے چوڑا اور نیچے سے چھوٹا ہونا۔ خاص آلات کی مدد سے ہی بلیک ہول کو پہچانا جا سکتا ہے۔

بلیک ہول کو عام انسان کی آنکھ نے 2019 میں ہبل ٹیلی اسکوپ کی مدد سے پہلی بار دیکھا تھا، جس میں سیاہ رنگ کے بیچ میں ایک سرکل موجود ہے۔ جسے بلیک ہول کہتے ہیں۔ واضح رہے اس بلیک ہول کو دیکھنا اتنا آسان نہیں ہے، چونکہ اس ہول کے پاس گریویٹیشنل لینزنگ موجود ہوتی ہے، یعنی جب بھی ہم آسمان میں کسی چیز کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور بلیک ہول درمیان میں موجود ہو، تو ہم اسے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ بلیک ہول کے آس پاس موجود کشش کی وجہ سے روشنی کو کسی لینس کی طرح موڑ دیتا ہے، جس کی وجہ سے ہم بلیک ہول کے پار موجود چیزوں کو دیکھ پاتے ہیں مگر بلیک ہول کو نہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US