سوشل میڈیا پر دلچسپ خبریں تو بہت سی ہیں لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
زنجیر میں جکڑی قبر:
90 سال سے خیبر پختونخوا میں ایک قبر کو زنجیروں سے قید کیا ہوا ہے، 1930 میں ہونے والے واقعات جو کہ برطانوی حکومت کے خلاف تھے، اس میں کئی افراد اپنی جان سے چلے گئے تھے۔ 1929 سے ہی برطانوی راج کے خلاف خدائی خدمتگار تحریک کا آغاز کیا گیا تھا۔
24 اگست کو احتجاجی مظاہرے جاری تھے اور پھر برطانوی کیپٹن ایشرافٹ اور قاضی فضل قادر کے درمیان بات چیت ہوئی جو کہ گرما گرم بحث میں تبدیل ہو گئی۔ واضح رہے قاضی فضل قادر بنوں اور آس پاس کے علاقوں میں جانی مانی اور پُر اثر شخصیت تھی۔
اسی گرما گرم بحث کے دوران تلخ کلامی اس حد تک ہو گئی کہ کیپٹن ایشرافٹ نے فائر کر دیا، اور مظاہرے میں موجود احمد خان چندن نامی شخص نے درانتی کی مدد سے حملہ کرنے کی کوشش کی جس پر برطانوی فوج نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
اس اندھا دھند فائرنگ کے دوران کئی افراد جاں بحق ہوئے جبکہ قاضی فضل قادر بھی زخمی ہوئے جسے کیپٹن ایشرافٹ گھسیٹتے ہوئے لے گئے، جہاں وہ ڈومیل پولیس اسٹیشن میں دم توڑ گئے۔ اس حوالے سے برطانوی فوجی اس حد تک غصے میں تھے کہ ان کے مرنے کے بعد میت بھی ورثاء کے حوالے نہیں کی بلکہ قاضی صاحب کی قبر وہیں بنوائی اور بطور سزا قبر کو زنجیروں میں جکڑ وا دیا، مقدمہ بھی درج ہوا اور قید کی سزا سنائی گئی، یہ اپنی نوعیت کا انوکھا مقدمہ تھا۔
قیدی درخت:
خیبر پختنونخوا میں ایک ایسا درخت موجود ہے جو گزشتہ کئی سال سے قید ہے۔ یہ بات سننے میں بھی حیرت انگیز لگتی ہے کہ کسی درخت کو گرفتار کر لیا ہو، عام طور پر جب ہم میں سے کوئی درخت کو زنجریوں میں ڈال دے تو لوگ بے وقوف سمجھتے ہیں۔
لیکن خیبر ایجنسی کے لنڈی کوتل چھاؤنی میں واقع اس برگد کے درخت پر زنجیریں کسی اور نے نہیں بلکہ برطانوی فوجی افسر نے ڈالی تھیں۔ یہ کہانی بھی کافی منفرد اور دلچسپ ہے کیونکہ برطانوی فوجی ایک درخت سے ڈر گیا تھا، وہ اس حد تک خوف میں مبتلا تھا کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔
دراصل ہوا کچھ یوں کہ انگریز جب سرحدی علاقے میں موجود تھے، تو قبائلی بھی اپنی زمین کو بچانے کے لیے لڑ رہے تھے، جس کی وجہ سے انگریز ہر لمحہ ایک خوف میں متبلا ضرور رہتے تھے۔
1898 میں چھاؤنی کے دورے پر آئے جیمز سکوئڈ نے رات کے وقت شراب کا نشہ کیا ہوا تھا، نشے کی حالت میں جب وہ اس برگد کے درخت کے قریب گئے تو انہیں یوں لگا کہ جیسے یہ درخت بھی ان پر حملہ کرنے آ رہا ہے، یہ دیکھتے ہی فوجی افسر نے جوانوں کو اس درخت کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
جوانوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس درخت کو گرفتار کر لیا، گرفتار کچھ اس طرح کیا کہ درخت کی ٹہنیوں پر زنجیریں ڈال کر زمین میں بڑے کیلوں سے باندھ دیا۔ جوان بھی افسر کے اس عمل پر حیران تھے مگر نشے میں دھت افسر کے حکم کو یہی سمجھ کر پورا کر رہے تھے کہ افسر نے کہا ہے۔
اگلے روز دورے پر آیا فوجی افسر جب جانے لگا تو اس درخت کو رہا کرنے کا حکم نہ دے سکا اور پھر وہ دن اور آج کا دن ہے، یہ درخت 122 سال سے یوں ہی اس چھاؤنی میں گرفتار کھڑا ہے۔ اگرچہ درخت گرفتار ہے مگر اس درخت کے پھلنے پھولنے میں ان زنجیروں نے کوئی مشکل نہیں ڈالی ہے لیکن اب یہ درخت بھی آخری سانسیں لے رہا ہے۔
درخت پر ایک تختی بھی لگی ہے جو کہ اس پورے واقعے کو آپ بیتی کے طور پر بیان کر رہی ہے کہ میری کہانی میری زبانی۔ ’ایک شام نشے میں دھت ایک برطانوی فوجی افسر کو ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنی جگہ سے ہل رہا ہوں اور اس نے میس سارجنٹ کو حکم دیا کہ مجھے گرفتار کر لیا جائے اور تب سے میں زیر حراست ہوں۔‘’
یہ درخت آج بھی اسی مقام پر اسی طرح موجود ہے جیسا کہ 122 برس پہلے موجود ہے اور ہر آنے والے کو برطانوی دور کے ظلم و ستم کی داستان کو بیان کرتا ہے۔