نوکری کرنے کے لیے آئے لوگ آنکھوں میں کچھ خواب بھی ساتھ لاتے ہیں جو اگر پورے ہوں تو لوگ خوش ہو کر جاتے ہوئے تعریفی کلمات کہتے ہیں لیکن اگر وہ خواب ان کے دل کے ساتھ ٹوٹ جائیں تو جاتے جاتے استعفے میں کبھی طنز تو کبھی غصہ بھی دکھایا جاتا ہے۔ ایسے ہی چند استعفے آج ہم اپنے قارئین کو دکھانے جارہے ہیں۔
سر مزہ نہیں آرہا
اس استعفے کے خط میں حضرت کوئی لگی لپٹی رکھنے کے بجائے سیدھا سیدھا کہہ رہے ہیں کہ سر میں تو استعفیٰ دے رہا ہوں کیونکہ مزا نہیں آرہا اور نیچے اپنا نام لکھ دیا۔ جانے یہ پڑھ کر ان کے باس پر کیا گزری ہوگی۔
پرندہ اڑ گیا
ہر آنے والے ملازم کو ایک نہ ایک دن تو چھوڑ کر جانا ہوتا ہے شاید اسی لئے اسکاٹ صاحب نے استعفے میں مختلف اڑتے ہوئے پرندے بنا دیے اور لکھا کہ یہ پرندہ بھی اڑ گیا۔ کیا خوب استعفیٰ ہے۔
بائے بائے سر
یہ استعفی صرف تین حرفی لفظوں پر مشتمل تھا جس میں باس کو صرف بائے بائے کہہ کر یہ بتایا گیا کہ ہمیشہ کے لیے الوداع اب وہ دوبارہ نوکری جاری نہیں رکھ سکیں گے اور صرف بائے بائے کہنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ نیچے اپنے دستخط کر کے اس پر تصدیق کی مہر بھی ثبت کی گئی ہے-جب کہ اس کو شئیر کرنے والی خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہت زیادہ ہے اگر ایک بار بھی بائے کہہ دیا جاتا تو مقصد بھی پورا ہو جاتا اور ایک لفظ کی بچت بھی ہو جاتی-