دعا زہرا کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری ہوا تھا کہ یہ کیس ان کے دائرہ کار میں نہیں ہے اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے کسی دوسرے فورم کے پاس جایا جائے۔ دعا کے والد مہدی علی کاظمی آج بھی اپنی بیٹی کو واپس لانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کا تیار ہیں تاہم دعا کا فیصلہ اٹل ہے کہ وہ ظہیر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔
دعا اپنے گھر میں کس طرح رہ رہی اس حوالے سے ظہیر کے بھائی اور دعا زہرا کے جیٹھ نے اپنے انٹرویو میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ ظہیر کے بڑے بھائی شبیر نے اے ڈی ویب چینل کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کئی نئے انکشافات کیے ہیں۔ شبیر نے کہا کہ جو والدین ہوتے ہیں وہ کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کی بیٹی ایک دن یا رات کے لیے چلی جائے تو یہ والدین کے لیے بہت شرمندگی کا باعث ہوتا ہے۔
ظہیر کے بھائی شبیر نے بتایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ دعا زہرا کسی گینگ کے چنگل میں پھنس گئی ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ خدا نا خواستہ اگر ایسا ہوتا تو بچی کسی اور کے پاس بھی جا سکتی تھی یا راستے میں کوئی معاملہ پیش آسکتا تھا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایسا کچھ نہیں ، ہم کوئی گینگ نہیں ہیں۔ دعا کے جیٹھ نے بتایا کہ ہماری ایک چھوٹی سی فیملی ہے اور ہمارے والد بھی حیات نہیں ہیں۔
شبیر کااس حوالے سے کہنا تھا کہ گینگ کا نام اس کیس کو مزید بڑھانے کے لیے دیا جاتا تھا تاکہ ان لوگوں کو پھنسایا جائے اور یوٹیوبرز کی کوشش تھی کہ وہ اس کیس کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ دعا زہرا ہمارے گھر پوری تصدیق کے ساتھ آئی ہے اس نے مکمل معلومات حاصل کی کہ ظہیر کا ایک گھر ہے ، وہ ایف ایس سی پر میڈیکل کا طالبعلم ہے، اس نے پنجاب یونیورسٹی آئی ای آر اسکول سے میٹرک کیا ہے، ظہیر پنجاب کالج جوہر ٹاؤن میں ایف ایس سی کا طالبعلم ہے۔ شبیر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ دعا نے یہاں نہیں آنا تھا وہ یہاں صرف اس لیے آئی کیونکہ اس کے گھر والوں نے بچی کے ساتھ زور زبردستی کی کہ تمہاری شادی ہو رہی ہے اس کی شاپنگ کا آغاز بھی کر دیا تھا۔
شبیر نے بتایا کہ دعا نے ہمیں بتایا کہ زین العابدین نامی لڑکا ان کے گھر ٹھہرا ہوا تھا جس سے اس کی شادی کروانے والے تھے اور دعا نے اپنے والدین کو بتایا بھی کہ وہ ظہیر سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ دعا بد زن ہوکر بہت مجبوری کے ساتھ یہاں آئی ہے۔ والدین سے ملاقات کرنے کے سوال پر شبیر نے کہا کہ دعا کا اس وقت ہمارے گھر میں سب سے زیادہ ہولڈ ہے کہ ہم اس کی مرزی کے خلاف ہم پانی بھی نہیں پی سکتے۔ میری 2 بیٹیاں ہیں جو دعا کے ساتھ کھیلتی ہیں اور وہ بہت خوش ہے۔ دعا ہمیں کہتی ہے کہ مجھے یہاں آکر لگتا ہی نہیں ہے کہ اپنے گھر سے دور چلی گئی ہوں۔ اور اگر وہ اپنے والدین سے ملنا چاہتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا بشرط یہ کہ وہ اس کی مرضی ہو تو وہ گھر جا سکتی ہے۔
دعا زہرا اور ظہیر کا ولیمہ کب ہوگا؟
اس سوال کے جواب میں شبیر کا کہنا تھا کہ میں دعا کے والدین سے گزارش کروں گا کہ وہ ہمیں عدالتی کارروائیوں سے فارغ ہونے دیں تو انشاء اللہ جلدی ولیمہ ہوجائے گا کیونکہ یہ کرنا ضروری ہے۔ شبیر نے بتایا کہ اس چیز کو لے کر ہمارے خاندان میں بہت باتیں چل رہی ہیں تو ہماری کوشش ہے کہ جلدی ولیمہ کریں اور ولیمے کی تقریب بڑے ہوٹل میں کی جائے گی۔