کونسے مشہور نبی کی قبر پانی میں تھی؟ جانیے ان سے متعلق چند حیران کر دینے والی باتیں

image

حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو قرآن مجید کی سورہ یوسف میں بیان کیا گیا ہے اور اس سورۃ کی پہلی آیات میں اس کو احسن القصص یعنی سب سے اچھا قصہ قرار دیا گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کی دی ہوئی آزمائشوں میں ثابت قدم رہے اورصبرسے تمام مصائب و مشکلات کا مقابلہ کیا تو اللہ نے انہیں بادشاہت عطا کی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ تو سب نے پڑھا ہی ہوگا ، تو جب حضرت یوسف کے سوتیلے بھائی اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے حکم پر دوبارہ مصرپہنچے اوراپنے بھائی بن یامین کی رہائی کی درخواست کی۔ تو اس موقع پر انہوں نے اپنے والد کا پیغام پہنچایا۔ حضرت یوسف اپنے والد کا خط پڑھ کر رونے لگے، اور پھر انہوں نے اپنے بھائی کو بتایا کہ میں تمہارا وہی بھائی ہو ں جسے بچپن میں آپ لوگ کنوئیں میں پھینک آئے تھے۔ اس پر ان کے بھائی نے ان سے معافی مانگی اور حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں معاف کردیا۔ اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ میرا کرتا لے کر جاؤ اور اباجان کے چہرے پر ڈال دو تو ان کی کھوئی ہوئی بینائی واپس آجائے گی۔(حضرت یوسف کے غم میں رو رو کر حضرت یعقوب کی بینائی چلی گئی تھی)۔ تم سب لوگ سب گھر والوں کو لے کر واپس مصر آجانا۔ یہ سن کرحضرت یوسف علیہ السلام کا سب سے بڑا بھائی جس کا نام "یہودا" تھا اس نے کہا کہ میں یہ کرتا لے کر بابا کے پاس جاؤںگا کیونکہ پہلے بکری کے خون سے رنگا حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا بھی میں ہی ان کے پاس لے کر گیا تھا جس سے میرے والد کو دلی تکلیف پہنچی تھی تو اب یہ کرتا بھی میں ہی لے کر جاؤں گا تو وہ خوش ہو جائیں گے۔

حضرت یعقوب کی بینائی واپس آگئی

جب یہودا حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا لے کر مصر سے قنان کی طرف روانہ ہوا۔ تو قنان میں موجود حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے پوتوں سے کہا جو کہ قرآن میں بھی موجود ہے کہ "اگرتم یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا ہے تو میں یہ کہوں گا کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے"( سورۃ یوسف آیت 94) تو ان کے پوتوں نے ان سے کہا کہ "آپ اب بھی اس پرانی سی بات پر اڑے ہوئے ہیں بھلا کہاں یوسف اور کہاں ان کی خوشبو" تو جب برادرانِ یوسف وہاں پہنچے اور حضرت یوسف کا کرتا ان کے چہرے پر ڈالا تو ان کی آنکھوں کی روشنی واپس آگئی۔ تو حضرت یعقوب نے ان سے کہا کہ " کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ جتنا میں اللہ تعالی کے بارے میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے" پھر یعقوب نے تہجد میں اللہ رب العزت سے اپنے بیٹوں کی معافی کی دعا کی، اور آپ کی دعا کی وجہ سے اللہ نے برادرانِ یوسف کو معاف کردیا۔

حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی ملاقات:

حضرت یعقوب علیہ السلام کے خاندان کے 72 یا 73 افراد کے ساتھ مصر پہنچے جہاں حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد کے استقبال کے لئے پورے قافلے کے ساتھ کھڑے تھے، جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ رش دیکھا تو پریشان ہوگئے کہ کہیں یہ فرعون کا لشکر تو نہیں تو ان کے بیٹوں نے بتایا کہ یہ آپ کے بیٹے یوسف کا لشکر ہے جو آپ کے استقبال کے لئے آیا ہے۔۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام حیران رہ گئے۔ ایسے میں حضرت جبرئیل تشریف لائے اور ان سے کہا کہ "اے اللہ کے نبی ذرا سر اٹھا کے دیکھیے کہ آسمان کے فرشتے بھی آپ کی خوشی میں تشریف لائے ہیں ، اور ان میں وہ فرشتے بھی شامل ہیں جو آپ کے غم میں آپ کے ساتھ غمزدہ تھے۔ اس کے بعد حضرت یعقوب ، حضرت یوسف سے ملے، 40 سال بعد ہونے والی اس ملاقات نے باپ بیٹے کو آبدیدہ کردیا۔ اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے تخت پر اپنے والد کو بٹھایا ۔ ان کے گرد ان کے گیارہ بھائی اور سوتیلی ماں سب موجود تھے۔ پھرآدابِ شاہی میں سب نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا یہ سجدہ تعظیمی تھا جو کہ اس وقت جائز تھا۔ تو انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ اباجان یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے۔ اس میں میرے بھائی ستارے ہیں، سورج آپ اور چاند والدہ ہیں۔ (حضرت یوسفؑ ابھی سنِ بلوغت کو بھی نہ پہنچے تھے کہ اُنہوں نے ایک خواب دیکھا تھا۔ جس کا اپنے والد سے یوں ذکر کیا ’’اے ابّا جان! مَیں نے گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو دیکھا کہ وہ سب مجھے سجدہ کررہے ہیں)۔‘‘(سورۂ یوسف4 آیت )

حضرت یوسف کی تدفین:

حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف کے ساتھ 24 سال اور کہیں ذکر ہے کہ 17 سال ان کے ساتھ رہے،پھران کا انتقال ہوگیا جس کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان کو لکڑی کے تابوت میں کر کے ان کو فلسطین میں دفنایا گیا۔

ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ چاہیے اس نے کہا ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیجئے جو دودھ دیتی ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس تو نے تو بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا صحابہ نے پوچھا وہ واقعہ کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہ ملی آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھا یہ کیا اندھیر ہے تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے آخر وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں حضرت موسٰی علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی تربت کہاں ہے سب نے انکار کردیا کہ ہم نہیں جانتے ہم ایک بڑھیا کے سوا اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اسے کہلوایا کہ مجھے یوسف علیہ السلام کی قبر دکھلا بڑھیا نے کہاں ہاں دکھلاؤں گی لیکن پہلے اپنا حق لے لوں حضرت موسٰی علیہ السلام نے کہا تو کیا چاہتی ہے اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو آپ علیہ السلام پر اس کا یہ سوال بہت بھاری پڑا اس وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اس کی شرط منظور کر لو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی تابوت ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئی۔(تفسیر ابن کثیر۔ ص 39 جلد 4)

حضرت یوسف علیہ السلام نے 120 سال کی عمر پائی، ان کی وفات کے بعد ان کے چاہنے والوں میں ان میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ ان کی تدفین کہاں ہو، ہر ایک اپنے محلے میں ان کی تدفین چاہتا تھا۔ اسی لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کی تدفین دریائے نیل میں کی جائے۔ تاکہ وہاں کا پانی ان کی قبر سے گزر کر سب کے پا س پہنچے۔ تو سب کے لئے خیر وبرکت رہے۔ اس لیے آپ کی میت کو سنگ مرمر کے صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں دفن کردیا گیا ۔ پھر 400 بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ ؑ کی قیادت میں مصر چھوڑنے کا حکم دیا تو سیدنا موسیٰؑ کو حضرت یوسف ؑ کی میت بھی اپنے ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ جس پر حضرت موسیٰ ؑ ان کا تابوت وہاں سے نکال کر اپنے ساتھ فلسطین لے گئے، جہاں حضرت یوسفؑ کے تابوت کوان کے آباؤ اجداد حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ اس وقت آپ کا مزار فلسطین میں ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US