کراچی کے شہری خدمت خلق اور ایک دوسرے کی مدد کرنے میں ہمیشہ بازی لے جاتے ہیں ، جب بھی کوئی مشکل گھڑی ہو ایک دوسرے کے لئے بڑھ چڑھ کر مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ کراچی جو سب سے زیادہ ریوینیو دیتا ہے اس سے ہمیشہ ہی سوتیلوں والا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہاں کی عوام بجلی پانی گیس، ٹرانسپورٹ کے لئے ترس رہی ہے۔ لوگ اس مہنگائی کے طوفان میں تباہ ہورہے ہیں لیکن ایسے میں شہری ہی ایک دوسرے کی مدد کو آگے بڑھے ہیں۔ آندھی طوفان ہو، بارش ہو، کسی کو چھت فراہم کرنی ہو، کسی کو کھانا پہنچانا ہو، رمضان ہو، کسی کو راشن پہنچانا ہو، سڑکوں پر راہگیروں کے لئے ہزاروں لوگوں کی افطاری کرانی ہو، یا مفت سحری یامفت کے کھانے یا ناشتے کا انتظام۔۔۔ کسی کا علاج کرانا ہو، کوئی اپنا روزگار شروع کرے اس کی مدد کرنی ہو پورا کراچی اس سے چیزیں خریدنے پہنچ جاتا ہے۔۔۔ کراچی والے ہمیشہ اوروں سے بازی لے جاتے ہیں۔ جب سے پٹرول مہنگا ہوا ہے مہنگائی نے جہاں غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے، وہیں اچھے اچھے لوگ اب سڑکوں پر آگئے ہیں ۔ لوگوں کی استطاعت نہیں رہی کہ وہ گاڑیوں میں سفر کریں یا مہنگی بجلی کی وجہ سے اس شدید گرمی کا مقابلہ کریں، مہنگائی اور گرمی ، پھر لوڈ شیڈنگ نے مزید زندگی عذاب بنا دی ہے۔ ایسے میں لوگوں کی حکومت سے کسی اچھی چیز کی امید رکھنا تو ختم ہو گئی ہے تاہم شہری اس مشکل وقت میں بھی ایک دوسرے کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں ایک شہری کی طرف سے گرمی کا حل پوچھا گیا تھا ۔ اس کے جواب میں دوسرے شہری نے اس کی کس طرح مدد کی ، یہ آپ آگے پڑھئے۔

سوشل میڈیا پر ایک گروپ میں کسی شخص نے یہ پوسٹ لگائی کہ "روم کو ٹھنڈا رکھنے کا کوئی سلوشن ہے برادرز؟ اے سی افورڈ سے باہر ہوگیا ہے، گھرایسٹ اوپن ہے،ہوا آتی نہیں جو آتی ہے وہ گرم۔۔۔ پنکھا بھی گرم ہوا مارتا ہے جبکہ سیکنڈ فلور ہے اپارٹمنٹ کا۔۔۔ کوئی علاج بتائیں، چھوٹی بیٹی پسینے میں رہتی ہے ۔۔ شکریہ"
اس بات کے جواب میں اسی گروپ کے دوسرے ممبر"سلمان شمیم "نے اس بات کا فوری جواب دیا کہ
"بھائی فرسٹ ویک آف جولائی میں میری سیلری آجائے گی، آپ میری طرف سے روم کولر لے لینا۔ آے سی کا اس لئے نہیں کہہ رہا کہ پھر بل زیادہ آئے گا۔ میری طرف سے آپ کی بیٹی کو گفٹ"۔
اسی طرح ایک گروپ پر ایک شہری نے ڈال دیا کہ میں آفس اس روٹ سے جاتا ہوں جو بھی اس روٹ کے درمیان میں کہیں جانا چاہتا ہے وہ فری میں جا سکتا ہے میرا نمبر۔۔۔۔ ہے۔
کہنا صرف یہ ہے کہ اب بھی انسانیت زندہ ہے، اتنی مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود یہاں کے لوگوں میں ایک دوسرے کا درد اور محبت اب بھی باقی ہے، کراچی کے ساتھ ہر حکومت نے صرف کھلواڑ کیا ہے لیکن یہاں کے شہری اب بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے اب بھی ساتھ کھڑے ہیں۔