سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جس میں ایک الگ ہی دنیا آباد ہے اس دنیا میں کچھ نیک نامی کما رہے ہیں اور کچھ اپنی فضول حرکتوں سے شہرت کمانا چاہتے ہیں، ان کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ وہ کس کام یا کس حرکت سے مشہور ہورہے ہیں وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ "بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا"۔ بس اسی بنیاد پر وہ کچھ بھی کر کے اپنے لائکس اور ویوز بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس ہی وجہ سے اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار ایپس کام کر رہی ہیں ، جن میں ٹک ٹاک اوریو ٹیوب سے لوگ لاکھوں کما بھی رہے ہیں ۔
خاص کر نوجوان نسل کو ٹک ٹاک سے بہت دلچسپی ہے ۔ اس میں مشہور ہونے کے لئے وہ اکثر غیر اخلاقی حرکتیں بھی کر جاتے ہیں اور کچھ اس میں مشہور ہونے کے لئے خطرناک کام بھی کرتے ہیں اور اس طرح کے کاموں میں اکثر جان کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک بڑی دلچسپ ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک ٹک ٹاکر نے اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کے لئے خطرناک دریا عبور کیا ۔ جب وہ کنارے پر پہنچا تو اس کے والدین اس کے انتظار میں کھڑے تھے۔
یہ وائرل ہونے والی ویڈیو دراصل اس کے استقبال کی ہے کہ اس کے والد اور بھائی نے اس کا کس طرح استقبال کیا۔۔ ناظرین دیکھ سکتے ہیں کہ کنارے پر پہنچتے ہی اس کے والد نے اور اس کے بھائی نے اس پر تھپڑوں کی بارش کی اور خوب اچھی طرح اس کی مار لگائی ۔ نوجوان نسل ایسے ایڈونچر کرتے ہوئے اپنے والدین کا احساس نہیں کرتے کہ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو بوڑھے والدین کس کرب اور اذیت سے گزریں گے۔ اور اس وڈیو میں والدین کی وہی جھنجھلاہٹ اورغصہ نظر آرہا ہے۔ کہ ان کا بیٹا تو اپنی وڈیو کے چکر میں دریا عبور کر کے آگیا لیکن اگر اس کو کچھ ہوجاتا تو والدین کیا کرتے۔ اسی لئے یہ تمام ٹک ٹاکرز اور وی لاگرز کے لئے ایک اچھا سبق ہے۔