امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے بعض بااثر حلقے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی عناصر کی جانب سے ان کے خلاف بھی ایک منظم مہم چلائی گئی تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
معروف پوڈکاسٹر جو روگن کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے کچھ افراد ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے مخالف تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے۔
انہوں نے ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران سے متعلق مذاکرات اور جنگ بندی کی مخالفت میں رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل استعمال کیے گئے۔ ان کے مطابق رپورٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق منتظم بریڈ پارسکیل سمیت چند دیگر افراد کے نام بھی سامنے آئے جنہیں مبینہ طور پر اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر کی مالی حمایت حاصل تھی۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ایک منظم اور خفیہ مہم تھی جس کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ناکام بنانا اور امن معاہدے کو آگے بڑھنے سے روکنا تھا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس مہم کے دوران انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا صحافیوں کو ان کے خلاف معلومات فراہم کی گئیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ امریکا کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے بجائے جنگ جاری رکھنی چاہیے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ان پر قطر اور دیگر غیر ملکی حکومتوں کے اثر و رسوخ میں ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے تاہم ان کے بقول ان کی تمام کوششوں کا مقصد صرف صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور اہداف پر عمل درآمد تھا۔