انگلینڈ کو شکست دے کر ارجنٹینا فٹبال ورلڈ کپ فائنل میں:’شکر ہے کہ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جب میسی کھیل رہے ہیں‘

بدھ کے روز جب انگلینڈ 1966 کے بعد ورلڈ کپ فائنل کے بہت قریب تھا لیکن ایسے میں اٹلانٹا میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں ارجنٹینا نے آخری لمحات میں شاندار کھیل کھیلتے ہوئے 1-2 سے فتح حاصل کر لی۔ اب فائنل میں میسی کی ٹیم کا سامنا اتوار کو میٹ لائف سٹیڈیم میں یورپی چیمپیئن سپین سے ہوگا۔
میسی
Getty Images

بدھ کے روز جب انگلینڈ 1966 کے بعد ورلڈ کپ فائنل کے بہت قریب تھا لیکن ایسے میں اٹلانٹا میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں ارجنٹینا نے آخری لمحات میں شاندار کھیل کھیلتے ہوئے 1-2 سے فتح حاصل کر لی۔

سیمی فائنل کے اس سنسنی حیز مقابلے میں انگلینڈ کے مینیجر تھامس ٹوخل کی ٹیم نے 55ویں منٹ میں اس وقت برتری حاصل کی جب مورگن راجرز کے عمدہ کراس پر انتھونی گورڈن نے گول کر دیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ انگلینڈ فائنل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

لیکن ارجنٹینا ہار ماننے والا کہاں تھا۔

میچ کے آخری پانچ منٹ میں ارجنٹینا کے اینزو فرنانڈیز نے 25 گز دور سے شاندار شاٹ لگا کر سکور برابر کر دیا۔

اور پھر اضافی وقت میں وہ لمحہ آیا جب لیونل میسی نے بہترین کراس دیا اور لاوتارو مارتینیز نے ہیڈر کے ذریعے فاتحانہ گول کر کے انگلینڈ کا فائنل میں پہنچنے کا خواب پورا نہ ہونے دیا۔

ارجنٹینا اب اپنے چوتھے عالمی اعزاز سے صرف ایک قدم دور ہے۔ اس سے قبل 1978، 1986 اور 2022 میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی مجموعی طور پر ساتویں فائنل میں شرکت ہوگی۔

1978، 1986 اور 2022 میں بالترتیب ہالینڈ، مغربی جرمنی اور فرانس کے خلاف ارجنٹینا نے فاتح کا ٹائٹل جیتا تھا۔

فائنل میچ میں اس کا سامنا اتوار کو میٹ لائف سٹیڈیم میں یورپی چیمپیئن سپین سے ہوگا۔

ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ جنوبی امریکہ اور یورپ کے چیمپئن فائنل میں آمنے سامنے ہوں گے۔

میچ کے اختتام پر جوڈ بیلنگھم سمیت انگلینڈ کے کھلاڑی مایوسی میں ڈوبے نظر آئے
Reuters
میچ کے اختتام پر جوڈ بیلنگھم سمیت انگلینڈ کے کھلاڑی مایوسی میں ڈوبے نظر آئے

ٹوخل ضرورت سے زیادہ محتاط

سیمی فائنل کا پہلا ہاف سخت مقابلے اور بار بار فاؤلز کی وجہ سے خاصا ہنگامہ خیز رہا۔ امریکی ریفری اسماعیل الفتح کو کھیل قابو میں رکھنے میں مشکل پیش آئی۔

میچ کے دوران جب انتھونی گورڈن نے انگلینڈ کو برتری دلائی تو ایسا لگ رہا تھا کہ 1966 کے بعد پہلی بار ٹیم ورلڈ کپ فائنل تک پہنچ جائے گی۔

لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، تجزیہ کاروں کے مطابق انگلینڈ آگے بڑھ کے کھیلنے کے بجائے اپنی برتری بچانے پر زیادہ توجہ دینے لگا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب میچ کا رخ بدل گیا۔

تھامس ٹوخل کی ٹیم نے گول کے بعد آہستہ آہستہ دفاعی انداز اختیار کر لیا اور ارجنٹینا کو کھیل پر حاوی ہونے کا موقع دے دیا۔

گورڈن کی جگہ دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا کو میدان میں اتارنے کا مقصد بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھا تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔

انگلینڈ اپنی ہی پینلٹی ایریا کے گرد محدود ہو کر رہ گیا جبکہ ارجنٹینا مسلسل اٹیک کرتا رہا اور یوں انگلینڈ پر بظاہر دباؤ مزید بڑھ گیا۔

یاد رہے کہ انگلینڈ حالیہ برسوں میں کئی بار بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی کے قریب پہنچ کر ناکام ہوا تاہم اس کے لیے یہ شکست اس لیے زیادہ تکلیف دہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس بار فائنل تک رسائی صرف چند منٹ کی دوری پر تھی۔

میسی کا فیصلہ کن کردار

میسی اب اپنے دوسرے ورلڈ کپ ٹائٹل سے صرف ایک قدم کی دوری پر ہیں۔

ارجنٹائن کے 39 سالہ لیونل میسی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں تاہم اتوار کے روز کھیلے جانے والے فائنل میں ان کا سامنا سپین سے ہو گا جہاں نوجوان سٹار لامین یامال بھی اپنے کھیل کے باعث فٹبال فینز میں بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

چار سال قبل ارجنٹینا کو عالمی چیمپیئن بنانے کے بعد بین الاقوامی کیریئر جاری رکھنے کے میسی کے فیصلے پر کافی بحث ہوئی تھی لیکن ان کی بے مثال کارکردگی نے ثابت کر دیا کہ وہ ارجنٹینا کو چوتھا عالمی کپ جتوانے کے لیے کتنے پرعزم ہیں۔

7 جولائی کو مصر کے خلاف ورلڈ کپ کے آخری 16 مرحلے کے میچ میں 3-2 کی سنسنی خیز فتح کے بعد لیونل میسی اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ جشن مناتے ہوئے
Getty Images
7 جولائی کو مصر کے خلاف ورلڈ کپ کے آخری 16 مرحلے کے میچ میں 3-2 کی سنسنی خیز فتح کے بعد لیونل میسی اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ جشن مناتے ہوئے

میچ کے بعد سوشل میڈیا پر بیشتر تبصروں میں انگلینڈ اور ارجنٹینا موضوعِ بحث رہے تاہم فٹ بال شائقین نے میسی کے کھیل اور انداز کو سب سے زیادہ سراہا۔

سبرینا ڈینیئل نامی صارف نے لکھا کہ ’ایک اور حریف میدان سے باہر! ارجنٹینا نے انگلینڈ کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ ارجنٹینا اور پوری ٹیم کو مبارک ہو۔‘

سوشل میڈیا پر میسی اور انگلینڈ کے کھلاڑی کے درمیان تلخی کی گونج

سوشل میڈیا پر پریتی نامی ایک صارف نے میچ میں میسی اور انگلینڈ کے کھلاڑی کے درمیان ایک تلخ لمحے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میسی نے جوڈ بیلنگھم کو گلا دبوچنے جیسی گرفت میں لے لیا۔ سوال یہ ہے کہ ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کو اس طرح کے سخت رویے پر بھی زرد کارڈ کیوں نہیں دکھایا جاتا؟‘

نیو ڈینیئل نامی صارف نے لکھا کہ ’بار بار یہ تاثر کیوں دیا جا رہا ہے کہ انگلینڈ نے میسی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا؟ کیا آپ نے یہ بھی دیکھا کہ میسی خود انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ساتھ کس طرح پیش آئے؟

میسی کے متعدد فینز نے اس موقع پر ان کی تعریفوں کے پل باندھے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ مجھے اس دور میں جینے کا موقع ملا جب لیونل میسی فٹبال کھیل رہے ہیں۔ میں واقعی شکر گزار ہوں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US