یہ سوچ کر پڑھایا تھا ہمارا سہارا بنے گا مگر ۔۔ گھر کے سامنے ڈکیتوں کی گولیوں سے مرنے والے نوجوان کا جنازہ پڑھاتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن بھی رو پڑے

image

شہرِ کراچی میں دن رات چوری، ڈکیتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ کہیں کوئی نوجوان صرف ایک موبائل کی خاطر زندگی کی بازی ہار رہا ہے تو کہیں کوئی قیمتی سرمایے سے محروم ہو رہا ہے۔ اس وقت شہر کا کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں ما رپیٹ، چھینا جھپٹی یا چوری چکاری نہ ہو رہی ہو۔ آئے روز پڑھے لکھے نوجوان بچے بھی انہی ڈکیتوں کے ہاتھوں ابدی نیند سلائے جا رہے ہیں۔

کراچی کا ایک اور نوجوان اظہر ڈکیتوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا اور اپنے ہی گھر کے سامنے بے دردی سے مار دیا گیا۔

اظہر ایل ایل بی کا طالبِ علم تھا جوکہ اپنے والدین کا ایک مضبوط سہارا تھا۔ ساری زندگی والدین نے بیٹے کو اپنے آخری وقت کا سہارا سمجھ کر اچھے سے اچھا پڑھایا لکھایا اور ایک نیک انسان بنایا مگر ان ڈکیتوں نے والدین سے ان کا یہ آخری سہارا بھی چھین لیا۔

اظہر کا جنازہ پڑھاتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن بھی رو پڑے اور شہید اظہر کے والد اور لواحقین سے تعزیت اور دعا مغفرت بھی کی۔

امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی عبدالجمیل خان صاحب، ناظم علاقہ حسیب احمد خان اور دیگر ذمہ داران کے ساتھ بڑی تعداد میں عوام نے بھی نوجوان اظہر کے جنازے میں شرکت کی۔

واضح رہے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کورنگی کے نوجوان اظہر کی اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں موت پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے 3 دن کا ٹائم دے دیا۔ گورنر سندھ عوامی کالونی تھانے پہنچے جہاں انہوں نے ایس ایچ او سے اسٹریٹ کرائم کی اس واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔

اس موقع پر ایس ایچ او نے گورنر سندھ کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور امید ہے کہ 3 دن میں ملزمان کو گرفتار کر لیں گے اور اگر وہ تین دن میں ملزمان کو گرفتار کر لیں گے تو وہ انہیں گورنر ہاؤس بلوا کر گولڈ میڈل پہنائیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US