یوں تو ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ فرسٹ کلاس میں سفر کرے لیکن مہنگا ٹکٹ ملنے کی وجہ سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ چلو کچھ گھنٹوں کی بات ہے اس کے لئے اضافی پیسہ پھینکنا بے کار ہے لیکن وہ لوگ جنھیں فرسٹ کلاس کی عادت ہو وہ ہمیشہ اسی میں سفر رتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ سہولیات ہیں جو صرف فرسٹ کلاس میں ہی پائی جاتی ہیں۔
بیٹھے کی سیٹ
انڈیپینڈینٹ اردو کے صحافی حسنین جمالی نے اپنے سفر کا احوال لکھتے ہوئے بیان کیا کہ انھیں سفر کے دوران اتفاق سے اکانومی کے بجائے فرسٹ کلاس میں سفر کرنا پڑا جہاں انھیں اندازہ ہوا کہ لوگ کیوں زیادہ پیسے دے کے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
حسنین جمالی کا کہنا تھا کہ فرسٹ کلاس میں بیٹھنے کے لئے دی گئی سیٹ کو سیٹ کہنا زیادتی ہوگی کیوں کہ وہ نرم، چوڑے اور انتہائی آرام دہ صوفے ہوتے ہیں۔ اوڑھنے کے لئے کمبل بھی اکانومی کلاس کی طرح پتلا نہیں بلکہ موٹا اور گرم دیا جاتا ہے جس سے خوشبو آرہی ہوتی ہے۔
لگژری باتھ رومز
فرسٹ کلاس کے باتھ رومز کے بارے میں حسنین جمالی نے بتایا کہ بیسن کے پاس قیمتی اور مہنگے2,3 پرفیومزکی بوتلیں رکھی تھیں اور اسی طرح مختلف اقسام کے لوشنز بھی تھے جبکہ اکانومی میں تو سینٹائزرز بھی چین میں جکڑے پڑے ہوتے ہیں جبکہ فرسٹ کلاس میں سب کچھ واقعی فرسٹ کلاس کا تھا۔
مختلف کھانے
اسی طرح کھانے کے بارے میں حسنین جمالی نے بتایا کہ صرف ناشتے میں ہی 5 مختلف اقسام کے ناشتے موجود تھے اس کے بعد کھانے میں بھی وسیع اور ذائقہ دار ورائٹی موجود تھی۔ اس کے علاوہ فرسٹ کلاس کے مسافروں کو منہ ہاتھ پونچھنے کے لئے نم اور انتہائی خوشبودار تولیے دیے گئے۔