ہارٹ اٹیک انسان کی موت کا دوسرا رُخ ہے کیونکہ اچانک ہارٹ اٹیک ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں۔ ہر ڈاکٹر کے علاج کرنے کا الگ طریقہ ہوتا ہے اور سب ہی اپنی مرضی کے مطابق دوائیاں دیتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے ایک ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جو مریضوں کا ادویات سے علاج کرنے کے ساتھ سورۃ رحمٰن سے بھی علاج کرت ہیں۔ ان کا نام ڈاکٹر جاوید احمد ہے اور یہ پاکستان بھر میں بہت مشہور ہیں۔ سروسز اسپتال لاہور کے شعبہ انتہائی نگہداشت کے کنسلٹنٹ، ڈاکٹر محمد جاوید احمد کے مریضوں نے ایک نجی ٹی وی شو میں اپنی بیماری کے خطرناک تھربے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ:
"
میں ہارٹ کا مریض ہوں، مجھے 3 مرتبہ ہارٹ اٹیک ہو چکا، میں نے مختلف ڈاکٹروں سے علاج کروایا لیکن سب نے مجھے لاعلاج قرار دے دیا۔ میں نے بہت مشکل وقت گزارا لیکن جب مجھے ڈاکٹر جاوید نے سورۃ رحمن سُننے کا مشورہ دیا اور مجھے کہا کہ یہ آواز آپ سنو، جیسے جیسے میں سنتا گیا مجھے احساس ہوا کہ میں پُرسکون ہوگیا ہوں، مجھے آرا مل رہا ہے اور یوں کچھ ہی ماہ کی اس تھراپی سے میرا علاج بھی ممکن ہوگیا اور اب میں بالکل ٹھیک ہوں اب مجھے نہ بے چینی ہوتی اور نہ گھبراہٹ اور 2013 کے بعد اب تک مجھے کوئی ہارٹ اٹیک بھی نہیں ہوا ہے۔
"
ڈاکٹر جاوید نے ڈاکٹر محمد جاوید نے 1992ء میں علاّمہ اقبال میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ پھر سروسز اسپتال میں 1 سال تک ہاؤس جاب کرنے کے بعد شیخ زید اسپتال اور اتفاق اسپتال سے آئی سی یو کے ماہر کی حیثیت سے کام کیا۔ یہ بہت عرصے سے مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ سورۃ رحمن سے علاج کرنا انہوں نے اس وقت شروع کیا جب کہ یہ خود ایک موذی مرض میں مبتلا ہوئے اور انہیں کسی نے سورۃ رحمن پڑھنے اور تلاوت سننے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد یہ آج بھی اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں۔