سوشل میڈیا پر دلچسپ معلومات تو بہت ہیں، لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں، جو کہ سب کی توجہ خوب حاصل کر لیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چنیوٹ شہر کی ہی ایک دلچسپ خبر سے متعلق بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر پاکستان کے چھوٹے سے شہر کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی صائمہ نورین نے سب کی توجہ خوب حاصل کر لی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے گاؤں کی پہلی لڑکی ہیں، جو کہ اب کامیاب مقام تک پہنچی۔
صائمہ نورین چنیوٹ پہلی پولیس کانسٹیبل بن کر ابھری ہیں، یوں تو ایسی کئی خواتین ہیں، جو کہ سب کو حیران کر رہی ہیں، لیکن صائمہ کی کہانی ہی ان کی کامیابی کو منفرد بنا رہی ہے۔
صائمہ کا تعلق چنیوٹ کے ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہے، جبکہ صائمہ کے والد بھی مزدوری کر کے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں، لیکن ان کا ایک ہی ارمان اور خواب تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا فخر بن کر ابھریں۔
جو صائمہ نے پورا کیا، ویسے تو صائمہ کی 3 بہنیں اور بھی ہیں، لیکن 19 سال کی عمر میں ہی پولیس کانسٹیبل کے لیے اہلائی کیا تھا اور کامیابی کے ساتھ اپنے ارادے میں کامیاب ہوئیں، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ والد نے اس سب میں بیٹی کو خوب سپورٹ کیا۔
چونکہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کی تعلیم اور نوکری کو لے کر کافی باتیں بھی کی جاتی ہیں، ایسا ہی کچھ صائمہ کے ساتھ بھی ہوا تھا، جب صائمہ کی سیلیکشن ہوئی تو والدین کو کئی باتیں سننے کو ملی تھی، تاہم والد نے بیٹی کی ہمت اور حوصلے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔
یہی وجہ تھی کہ آج بیٹی ایک کامیاب خاتون افسر کے طور پر سامنے آئی ہے، ساتھ ہی صائمہ تعلیم بھی مکمل کر رہی ہیں، میں نے پولیس ڈپارٹمنٹ میں اپنا پہلا قدم رکھ دیا ہے جس کے بعد صائمہ کی اگلی منزل پنجاب پبلک سروس کمشین ہے۔
ایف ایس سی کرنے والے صائمہ کے بھائی نے بھی انہیں اس فورس میں اپلائی کرنے کے لیے خوب حوصلہ دیا، یہاں تک کہ جب کبھی وہ اشتہار دیکھتا تو بہن کو ضرور بتاتا اور اپلائی کرنے کے لیے کہتا۔
والد کے سامنے جب صائمہ نے پہلی بار یونیفارم پہنا تو والد کی آنکھوں میں خوشی کے وہ آنسو تھے، جو کہ شاید بیٹی نے پہلی بار دیکھے ہوں۔ لیکن اس سب میں وہ مزید خوش اس وقت ہوئے جب انہیں یہ علم ہوا تھا کہ صائمہ چنیوٹ کی پہلی خاتون پولیس کانسٹیبل ہے۔